’یونان مالی اصلاحات کرنے کی مزید یقین دہانی کروائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اجلاس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی ابھی بھی بہت مشکل ہے

یورو زون کے ممالک کے وزرائے خزانہ یونان کی جانب سے مالی اصلاحات کے سلسلے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی یقین دہانی کے لیے مزید مطالبات کر رہے ہیں۔

سنیچر کو برسلز میں منعقد ہونے والے اجلاس میں یونان کی جانب سے معاشی اصلاحات کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اجلاس کو اتوار کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں یونان کو تیسرا بیل آؤٹ پیکیج دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی ابھی بھی بہت مشکل ہے۔ ادھر یونانی موقف ہے کہ وہ پیش رفت کے لیے کوشاں ہیں۔

یونان کی پارلیمان نے معاشی اصلاحات کی حمایت کر دی

یہ تجاویز منظور ہو جانے کی صورت میں ان کی توثیق یورپی یونین کے رکن ملکوں کی پارلیمان میں کرائی جائے گی جہاں ان پر اعتراضات بھی ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے یونان میں ارکانِ پارلیمان نے معاشی اصلاحات کی تجاویز کی حمایت کر دی ہے تاہم پارلیمان میں جمعے کی رات گئے ہونے والی بحث کے دوران وزیراعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پارٹی کی طرف سے کٹوتیوں کے بارے میں جو وعدے کیے گئے تھے یہ تجاویز ان سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

وزیراعظم کو اپنی ہی جماعت کی جانب سے ان اصلاحات کو تجویز کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا جنھیں ریفرینڈم میں مسترد کر دیا گیا تھا۔

قرض خواہوں نے ابتدائی طور پر تو اس منصوبے پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے لیکن ابھی بیل آؤٹ دیے جانے کی یقین دہائی بہت دور ہے۔

اس حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف، یورو کمیشن اور یورپ کے سینٹرل بینک نے اپنا پہلا جائزہ بھی یوروزون کے وزرائے خارجہ کو بھجوا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے یورپی یونین کے ایک افسر نے کہا کہ کچھ خاص شرائط کے تحت تمام ممالک ان تجاویز کا جائزہ لیں گے۔

یونان سال 2018 تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے مزید 53.5 ارب یورو کا مانگ رہا ہے تاہم نیا بیل آؤٹ پیکیج 74 ارب یورو تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اسے ایک بڑے قرض کو ادا کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ 74 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج میں 16 ارب یورو آئی ایم ایف جبکہ 58 ارب یورو یورو زون کے فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔

یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیج میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے جبکہ یونان 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔

19 ممالک پر مشتمل یورو زون کے وزرائے خزانہ یونان کی تجاویز کا جائزہ لیں گے کہ آیا یہ نئے قرض کی شرائط پر پورا اترتی ہیں اور آیا یونان کو درمیانی مدت کے لیے نئے فنڈز دیے جائیں۔

سنیچر کو یورو زون کے ومرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد اتوار کو پہلے یورو زون کے ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس ہو گا جس کے دو گھنٹے بعد یورپی یونین کے ملکوں کے سربراہ اکھٹے ہوں گے۔

ابھی تک یورپی یونین کے سربراہوں کی یونان کی تجاویز کے بارے میں رائے منقسم ہے۔

جرمنی کی وزارتِ خزانہ کی ترجمان مارٹن جیگر کا کہنا ہے کہ جرمنی قرضوں کی وصولی میں تبدیلی کی بہت کم گجائش دیکھتا ہے اور قرضے معاف کرنے کے کسی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا جس میں جرمنی کا زیادہ نقصان ہو۔

اطالوی وزیر اعظم میتو رینزی کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ہفتے تک کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ نئی تجاویز سنجیدہ اور قابل اعتماد ہیں اور یونانیوں نے یورو زون میں رہنے کے اپنے عزم کا اظہار کر دیا ہے۔

یورو گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ یونان کی تجاویز مفصل لیکن ان پر غور کیا جانا ہے۔

اسی بارے میں