جنگ بندی کے بعد یمن میں ’سعودی بمباری‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی عرب نے رواں سال مارچ میں یمن میں موجود حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا

یمن میں قیام امن کے لیے گذشتہ روز شروع ہونے والی جنگ بندی کی چند ہی گھنٹوں کے بعد خلاف ورزی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی کوششوں سے گذشتہ روز یمن جنگ میں شاملفریقین نے رمضان کے مہینے کے دوران عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

عدن میں بمباری

جنگ بندی کے لیے مذاکرات ناکام

یمن کے دارالحکومت صنعا کے مکینوں نے بتایا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے ان پر بمباری ہوئی۔ اس کے علاوہ یمن کے شہر تعز سے جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

یمن میں رواں سال مارچ میں سعودی عرب کی کمان میں شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یمن کو مسدود کرنے سے انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ یمن کی ڈھائی کروڑ کی آبادی میں سے 80 فیصد افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل جنگ بندی کے اعلان پر اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیون ڈیوجرک کا کہنا تھا کہ ’انسانی بنیادوں پر لڑائی میں ہونے والے وقفے کے دوران مستحق افراد کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے فوری اور ہنگامی امداد ناگزیر ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سعودی اتحادی فوج کے ایک طیارے نے حوثی باغیوں کے کیمپ کو بھی نشانہ بنایا۔

حالیہ ماہ کے دوران یمن میں مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم صدر منصور ہادی کے حامی فوجیوں اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ حوثیوں نے صدر منصور ہادی کو رواں سال فروری میں دارالحکومت صنعا چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنگ کے باعث عوام تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

مارچ میں صدر ہادی کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے عدن میں حوثیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب نے سابق صدر ہادی کی درخواست پر یمن میں فضائی بمباری شروع کی تھی۔

خلیجی ریاستوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی مالی مدد کر رہا ہے۔ جبکہ ایران نے یہ الزامات مسترد کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والے تین ہزار افراد میں سے کم سے کم 1528 عام شہری ہیں۔

نقل مکانی پر مجبور ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔

فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ یمن میں ایندھن کی کمی سے امداد کی فراہمی اور موثر طبی سہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل اتحادی افواج نے رواں سال مئی میں پانچ دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس دوران زیادہ تر امدادی سرگرمیاں نہیں ہو سکی تھیں۔

جغرافیائی لحاظ سے یمن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یمن کی آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یہی آبی گزرگاہ تیل کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اسی بارے میں