قاہرہ میں حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اٹلی کے قونصل خانے کو کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اطالوی قونصل خانے کے باہر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔

سنیچر کے روز ہونے والے اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ قونصل خانے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے دیے گئے پیغام میں مسلمانوں کو قونصل خانے جیسے مقامات سے دور رہنے کی ترغیب کی گئی ہے کیونکہ دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات ان کے نشانے پر ہیں۔

ادھر اطالوی وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں کوئی بھی اطالوی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور ان کا کہنا ہے کہ ’اٹلی کو ڈرانے نہیں دیا جائے گا۔‘

حملے کے بعد اطالوی وزیرِ اعظم ماتیو اورینزی نے مصری صدر السیسی سے ٹیلی فون پر بات کی اور دونوں رہنمائوں نے دہشتگردی کے خلاف متحد رہنے کی تائید کی۔

ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ سنیچر کی صبح اطالوی قونصل خانے کے بار موجود ایک کار کے ذریعے کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خبر رساں ایجنسی مینا نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ سنیچر کی صبح اطالوی قونصل خانے کے بار موجود ایک کار کے ذریعے کیا گیا

خیال رہے کہ مصر میں گذشتہ ماہ ایک کار بم دھماکے میں پبلک پراسیکیوٹر ہشام برکت ہلاک ہوئے تھے۔

اسی مہینے کے دوران کار بم دھماکے میں ہی مصر کے ایک پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری فوج بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تاہم ان کا دائرہ کار صحرائے سینا تک محدود ہے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران پولیس اور فوج کے 600 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں جولائی 2013 کے بعد تیزی آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب صدر مرسی کی حکومت پرطرف ہو گئی تھی۔

حالیہ ہفتوں میں موجودہ صدر السیسی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کریں گے۔

دوسری جانب سابق صدر مرسی سمیت سینکڑوں افراد کو موت کی سزائے سنائی گئی۔

اسی بارے میں