افغانستان میں بم حملہ، 30 سے زائد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والے عام شہری قریب ہی گاڑی میں بیٹھے چیک پوائنٹ سے گزرنے کا انتظار کر رہے تھے

افغانستان میں ایک فوجی اڈے کے قریب ہونے والے خودکش کار بم دھماکے میں 30 سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

مشرقی صوبے خوست میں واقع کیمپ چیپ مین کے قریب اتوار کو ہونے والے اس دھماکے میں ایک خودکش حملہ آور نے ایک فوجی چوکی کے نزدیک جا کر خود کو بم سے اڑا دیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ کیمپ چیپ مین امریکی حساس ادارے سی آئی اے کے استعمال میں تھا اور اسے 2009 میں بم کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ادارے کے سات اہلکار مارے گئے تھے۔

کیمپ چیپ مین میں اب افغانستان کے علاوہ امریکہ اور دیگر ملکوں کے فوجی بھی مقیم ہیں۔

حالیہ حملے میں کوئی امریکی فوجی یا افسر ہلاک نہیں ہوا۔

خوست کے گورنر کے مطابق حملے میں 27 سویلین اور چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

ڈپٹی پولیس چیف یعقوب خان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس حملے میں وہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جو کیمپ چیپ مین کی حفاظت پر تعینات تھے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے شہری قریب ہی گاڑیوں میں بیٹھے چیک پوائنٹ سے گزرنے کا انتظار کر رہے تھے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تاہم اس سے پہلے اس جگہ کو طالبان نے متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔ اس سال اپریل میں انھوں نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

صوبہ خوست کی مشرقی سرحد پاکستان سے ملتی ہے اور اس کا شمار افغانستان کے حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔

.

اسی بارے میں