یونان: یورو زون، یورپی یونین پر اثرات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہفتے کے اختتام پر ادویات بنانے والی بڑی کمپنی کے ڈائریکٹر نے مجھے بتایا کہ کمپنی نے یونان کو فروخت کی گئی زندگی بچانے والے ادویات کی رقوم ملنے کی امید ختم کر دی ہے۔

لیکن اُن کی ادویات پر انحصار کرنے والے کینسر کے مریض متاثر نہیں ہوں گے، گو کہ ادویات مفت نہیں ملتیں لیکن وہ اُن کی فراہمی جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو ادویات نہ دے کر سزائے موت نہیں دے سکتے ہیں۔

کینسر کے نئے مریض یا وہ افراد جن کی تشخیص نہیں ہو سکی ہے کیا انھیں بھی علاج معالجے کے لیے یہی سہولیات ہوں گی۔ اس سوال کے جواب دینے کے بجائے انھوں نے شرمندگی سے کندھے اچکانے پر ہی اکتفا کیا۔

اُن کے اس جواب سے مجھے اندازہ ہوا کہ یونان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

1930 کی دہائی کے بعد سے اب تک ہم نے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کو ایسے گرتے ہوئے نہیں دیکھا، جیسا کہ یونان کے ساتھ ہوا ہے۔ لاکھوں افراد کو اپنی زندگیوں کے تحفظ کا خطرہ ہے، کمپنیاں ختم ہونے کو ہیں، کینسر کے مریضوں کو معلوم نہیں ہے کہ اُن کا علاج ہو پائے گا یا نہیں۔

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ یونان میں نااہلی، ، غفلت اور حکومت میں آنے کی لالچ، یورو زون اور آئی ایم ایف میں سیاسی عدم حساسیت ہی پالیسیوں میں تبدیلیاں کی وجہ بنی ہے۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ قرض لینے والوں اور قرض دینے والوں نے ایک دوسرے پر برابر الزام تراشی کی ہے۔

غیر جانبدار مبصرین کے خیال میں یورو زون اور خاص کر کے جرمنی سر توڑ کر ایتھنز کو مثال بنانے اور یونان کی حکومت کو مالیاتی امداد کی وجہ سے رسوا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، اور چاہ رہا ہے کہ یونان کو غریب کیا جائے۔

ان حوالے سے حقائق یہ ہیں۔

جمعہ کو وزیراعظم الیکسس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے ٹیکسں میں اضافے، پنشنز میں کمی اور قرض دہندگان کی دی گئی شرائط کو قبول کیا ہے۔ یہ وہی شرائط ہیں جنھیں کچھ روز قبل یونان کے افراد نے مسترد کرتے ہوئے جشن منایا۔

مسٹر تیسپریس کی تکلیف دہ تنزلی، بیل آؤٹ کی شرائط پر اُن سے نفرت کرنے والی اپوزیشن اور حامیوں میں اختلافات کے باجود جرمنی کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں یورو زون کے وزرا خارجہ نے اُن کے اقدام کو ’تاخیر‘ قرار دے کر بدنام کر رہے ہیں۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ایتھنز کو ’ مکمل اخراج‘ کا راستہ دکھانا کے بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ یورو زون ہمیشہ رہے گا اور یہ اخراج ’عارضی‘ ہے۔

جب تک یورو گروپ اور یورو زون کے سربراہان اجلاس کر رہے ہیں، اُس وقت تک مسٹر تیسپریس بہت خوف زدہ ہیں۔

ٹیکس، اخراجات، نجکاری اور صنعتیں، جو کہ عوام کی زندگیاں بہتر کرتی ہے، اُن کا تعین رواں ہفتے یونان کی پارلیمان کی جانب سے ہنگامی قانون سازی کے ذریعے ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم الیکسس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے ٹیکسں میں اضافے، پنشنز میں کمی اور قرض دہندگان کی دی گئی شرائط کو قبول کیا ہے۔

کیا یہ جمہوریت ہے؟

اگر تمام پارلیمان یورو زون سے بات چیت پر متحد ہو بھی جائے اور ممکنہ طور انھیں 86 ارب یورو مل بھی جاتے ہیں تب بھی یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور بینکاری نظام کو چلانے کے لیے زیادہ رقوم کی ضرورت ہے۔

ایتھنز میں تمام سرکاری ممبران ، بینکرز اوردیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو، برباد وہی ہو رہے ہیں اور اسی وجہ سے اُن کے رویوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

اور آخر میں ہو گا یہ کہ برلن، برسلز اور واشنگٹن میں آئی ایم ایف یونان پر برسا ہا برس تک قابض ہو جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے معائنہ کار مستقل طور پر ایتھنز آ جائیں گے۔

نجکاری سے حاصل قوم کسی دوسرے اکاونٹس کی تحویل میں رہیں گی، ممکنہ طور پر لیسمبرگ کے کسی اکاونٹ میں۔ یونان کی حکومت ملک کی معیشت کی خودمختاری سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔

اب بظاہر ایسا کہنا کہ معقول لگتا ہے کہ مسٹر تیسپریس اور ان کے اتحادیوں کی نا اہلی کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ اگر یورو زون اور یورپی یونین کسی چیز پر متحد ہیں وہ صرف صرف رکن ممالک کے درمیان یکجہتی ہے۔

زیادہ تر یہی کہا جا رہا ہے کہ برلن اور برسلز مالیاتی راست بازی لانا چاہتے ہیں جو کہ قرضوں کی ادائیگی کرنے والے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ انسانی بحران کے خدشات یا طویل مدت میں یورو کے استحکام سے بھی زیادہ اہم۔

یورو زون کی جانب سے یونان کو اس طرح ایک طرف کرنے سے کیا برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے لیے یورو زون میں شامل ہونے کا فیصلہ آسان یا مشکل ہوا ہے؟

یونان کے عارضی اخراج کے لیے یورو زون کے وزرا خارجہ پیشکش سے برسلز برلن اور یورپی سینٹرل بینک کیا سرمایہ داروں کے خدشات پورے کر پائیں گے؟

یورو زون کا بحران یونان میں سنہ 2010 میں شروع ہوا تھا جس نے وسیع تر یورپی یونین کی بقا کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں