یونان کو کچھ عرصے کے لیے یورو زون سے باہر کرنے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ کچھ تجاویز کا مقصد یونانی وزیراعظم اور ان کی حکومت کی تذلیل ہے

یورو زون اور یونان کے درمیان مالی بحران سے متعلق جاری مذاکرات میں زیرِ غور متعدد تجاویز میں سے ایک یہ تجویز بھی ہے کہ یونان کو کچھ عرصے کے لیے یورو زون سے باہر کر دیا جائے۔

مذاکرات میں شامل 19 رہنما رات گئے تک بات چیت کرتے رہے اور اب اہم عناصر سے مشاورت کے لیے بریک لی گئی ہے۔

یورو زون ممالک کے وزرا نے دو روز کے مذاکرات کے بعد ممکنہ شرائط کا ایک دستاویز تیار کیا ہے تاہم یونانی حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ تجاویز بہت بری ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ کچھ تجاویز کا مقصد یونانی وزیراعظم اور ان کی حکومت کی تذلیل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چانسلر میرکل کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یونان اور یورو زون کے لیے اس معاہدے کے فوائد نقصانات سے زیادہ ہوں

یاد رہے کہ اس سے قبل جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے یونان کے لیے امدادی پیکیج پر جاری مذاکرات کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر صورت میں معاہدہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

یہ بات انھوں اتوار کو برسلز پہنچنے پر کی جہاں وہ یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکیج پر یورو زون کے ممالک کے دیگر 18 سربراہان سے تبادلۂ خیال کریں گی۔

یونان میں عارضی انخلا کی سکت ہے؟

دوسری جانب یونان کے وزیرِاعظم ایلکسس تسپیراس کا کہنا ہے کہ وہ سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔

اسی اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز پہنچنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر تمام فریق متفق ہوجائیں تو آج رات ہی معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ یہ اجلاس گزشتہ دو روز کے دوران یورو زون کے وزرائے خزانہ کی یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے آخری موقعے پر معاہدہ کرنے کی کوششوں پر مبنی اہم بات چیت کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔

آنگیلا میرکل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ آیا تیسرے بیل آؤٹ پیکیج پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے شرائط پوری کی گئی ہیں کہ نہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو داؤ پر لگی ہوئی ہے، اس سے نہ کچھ زیادہ اور نہ ہی کچھ کم۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ ’ہر قیمت پر معاہدہ نہیں ہوگا، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یونان اور یورو زون کے لیے اس معاہدے کے فوائد نقصانات سے زیادہ ہوں۔‘

خبر رساں ادارے رائٹز نے وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد تیار کیے گئے اعلامیے کا مسودہ دیکھا ہے جس کے مطابق یورو زون کے ممالک مذاکرات شروع کرنے سے پہلے یونان سے مزید یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریق متفق ہوجائیں تو آج رات ہی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

ان یقین دہانیوں میں میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور پنشن میں تبدیلی سے متعلق نئی قانون سازی بھی شامل ہے۔

رائٹز کے مطابق اس اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ ’یورو گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ابھی نئے بیل آؤٹ پیکیج پر بات چیت شروع نہیں کی جا سکتی۔‘

کئی وزرائے خزانہ کا کہنا ہے کہ بات چیت کا عمل یونان اور یورو زون کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

اس سے پہلے یونان کی جانب سے مالی اصلاحات کے تناظر میں دی گئی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کا سربراہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سربراہ اجلاس کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اب اس اجلاس کی جگہ یوروگروپ کے رکن ممالک کے رہنماؤں کا اجلاس اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یونان کے بحران پر مذاکرات ختم نہیں ہو جاتے۔

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ ’بہت کم ہی یورپی یونین کے اجلاس منسوخ ہوئے ہیں اور وہ بھی کسی شستہ اعلان کے بغیر اتنے کم نوٹس پر۔‘

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سربراہ اجلاس کی منسوخی کی صرف ایک وجہ ہی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ یونان کو یورو زون میں رکھنے کے لیے معاہدے پر توجہ مرکوز کی جائے۔

یونانی حکومت نے ملک کو اقتصادی مسائل سے نکالنے کے لیے 70 ارب یورو کے ’بیل آؤٹ پیکیج‘ کا مطالبہ کیا ہے جس کے بدلے میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ کفایت شعاری کے مزید اقدامات کرے۔

اگر یونان پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ اسے یورو سے خارج کر دیا جائے گا۔

سنیچر کو ہونے والے لمبے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے اور یورو گروپ کے رہنما یوریون ڈائیسل بلوم نے مذاکرات کو بہت مشکل کہا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے یونان کی تجویز پر بڑی سیرِ حاصل بحث کی ہے، اعتبار اور اعتماد کے مسئلہ بھی زیرِ غور رہا اور یقیناً اس میں شامل مالیاتی مسائل بھی، لیکن ہم نے اپنی بات چیت ابھی ختم نہیں کی ہے۔‘

یورپی کمیشن کے نائب صدر والدس ڈومبروفسکس نے کہا کہ اس بات کا سراسر امکان نہیں کہ اتوار کے اجلاس میں تیسرے بیل آؤٹ پیکیج پر باقاعدہ مذاکرات کے لیے کوئی مینڈیٹ مل جائے۔

سلوکیا کے وزیرِ خزانہ پیٹر کازیمیر کا بھی کچھ اسی طرح کا خیال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج کسی معاہدے پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ہم سربراہان مملکت کے لیے بعض تجاویز پر متفق ضرور ہو سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونان میں بینک ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے بند ہیں

فن لینڈ کے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وہ ابھی بھی پر امید ہیں لیکن کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایک سے 10 کے سکیل پر یونان اور یوروزون کہیں تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہے۔

سنیچر کو ایسی اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ جرمن وزرا ایسے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں کہ اگر اس اختتام ہفتہ کے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ عارضی طور پر یونان کو یوروزون سے نکلنے کی اجازت دے دیں گے لیکن ایتھنز نے کہا ہے کہ اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے۔

یونان سال 2018 تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے مزید 53.5 ارب یورو مانگ رہا ہے تاہم نیا بیل آؤٹ پیکیج 74 ارب یورو تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اسے ایک بڑے قرض کو ادا کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ 74 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج میں 16 ارب یورو آئی ایم ایف جبکہ 58 ارب یورو یورو زون کے فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔

یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیج میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے جبکہ یونان 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔

اسی بارے میں