یونان اب آمریت کے شکنجے میں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ کوئی شاندار کامیابی نہیں ہے اور نہ خوش ذائقہ فتح۔

رات بھر جاری رہنے والے مذاکرت کے بعد یورو زون کے رہنماؤں نے دھندلائی نظروں سے کہا ’ہم نے کر دیا‘۔ یہ اُن کا یونان کے ساتھ معاہدے کا پیغام تھا۔

لیکن انھوں نے یہ کیسے کیا اور حقیقیت میں انھوں میں کیا کچھ کیا؟

یونان کی امداد کا پیکج پر دستحط اور سیل نہیں ہے۔ کوئی ایسا حل نہیں ہے جو یونان کو اُس کے پیروں پر کھڑا کرتے ہوئے طویل مدت میں مالیاتی طور پر مستحکم بنا سکے۔

یونان کے قرضوں میں کمی کرنے کے بارے میں بھی بات نہیں ہوئی جو اقتصادی ماہرین کے لحاظ سے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

اس ’معاہدہ‘ سے نئے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط اور دیگر اقدامات کی بات کی گئی ہے جس سے فی الوقت یونان کے معاملات چل سکیں گے۔

لیکن فرانس کے صدر نے مذاکرات کے اہم نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کے یکجتی کے اصول کو برقرار رکھا گیا ہے۔

کیا واقعی ایسا ہے؟

یہ بھی ممکن تھا کہ سرے سے کوئی معاہدہ ہی نہ ہوتا اگر اگر یونان کے وزیر اعظم اور ان کے اٹلی کے ہم منصب کی کوششیں نہ ہوتیں۔

یورو زون کے 19 رہنماؤں کے درمیان رات گئے تک جاری رہنے والی ملاقات میں دو طرفہ بات چیت بھی ہوئی۔ فرانسیسی وزیر اعظم اولاند اتوار کو اجلاس میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے کہ وہ یونان کی یورو زون میں موجودگی کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

دیگر ملکوں کے مقابلے میں جرمنی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

چانسلر اینگیلا میرکل جرمن عوام کی وجہ سے دباؤ میں ہیں کیونکہ جرمنی یونان کے امدادی فنڈ میں سب سے زیادہ رقم دینے والا ملک ہے اور چانسلر کی اپنی جماعت کے اراکین یونان کے لیے سخت موقف رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

یورپ کی یکجہتی کا تاثر ایک طرف لیکن عام عوام کے خیال میں یورپی سپر پاورز اور چھوٹے ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

یورپ کے مشرقی ممالک لیتھوئنیا، جہاں پنشنز یونان کے مقابلے میں نصف ہیں اور وہ ممالک جیسے پرتگال، سپین اور آئر لینڈ جنھیں خود بھی کفایت شعاری کا سامنا ہے، اُن کے خیال میں یونان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ گو کہ یہ تمام ممالک بھی یورو زون چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں اور ’اعتماد‘ کا لفظ بار بار استعمال کیا گیا ہے۔

کئی ماہ سے جاری گہماگہمی کے بعد یونان کی سریزا پارٹی اقتدار میں آئی اور اُس نے یورپی یونین کے کئی سفارتی قوانین کو توڑا۔گذشتہ پانچ برسوں سے یونان میں برسراقتدار حکومتوں نے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کو بھی نظرانداز کیا۔

اچھی نیت دیکھنے میں بہت کم ہی ملتی ہے۔

میرکل نے کہا کہ ’اعتماد دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔‘

یہ ایک طرح سے نفرت آمیز (بقول یونان) ٹروئکا کی جانب سے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹروئکا ( آئی ایم ایف، یورپی سینٹرل بینک، یورپی کمیشن) ایتھنز میں اپنی مستقل جگہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ یونان کو ملنے والی امدادی رقوم پر مکمل نظر رکھی جا سکے۔

بینکنگ شعبے کے ذرائع نے مجھے بتایا کہ یہ معاہدے آئی ایم ایف کے دنیا بھر میں یہاں تک کے غریب ترین ممالک میں ہونے والے معاہدوں کے مقابلے میں بھی بہت سخت ہوگا۔

یونان کے اس ڈرامائی انجام میں ٹوئٹر زندہ ہے اور وہ ملک جس نے جمہوریت کو پنپتے دیکھا اب آمریت کے شکنجے میں ہے۔

یونان کا اپنا کیا فائدہ ہے اس لحاظ سے دماغ میں دو نکات آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دس روز قبل جب ریفرینڈم کے نتائج آئے تھے اس پر وزیراعطم الیکسیس تیپسیرس نے کہا کہ یہ جمہوریت ہے اور اب وہ شرائط پر رضامند ہو گئے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ یونان قومی سالمیت کو داؤ پر لگانے والا تنہا ملک نہیں ہے۔ یورو زون میں اُس جیسے اور بھی ملک ہیں۔

ایک دوسرے کو قریب لانے اور مشترک کرنسی کے بارے میں باتیں تو بہت سی ہوئی ہیں۔ یونان کے بحران سے پتہ چلا ہے کہ کرنسی کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے سختی اور مضبوطی کی ضرورت ہے۔

آخر میں یونان کا معاملہ ایسا نہیں ہے جس پر یورو زون کے رہنما فخر کریں۔ شبہات، اعتماد کے فقدان کے درمیان میں یہ معاہدہ طے پایا ہے۔

یہ اُن کے اپنے مفاد میں تھا۔

یاد رہے کہ سنہ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے یورو زون آگے بڑھ رہا ہے۔

یونان کی قسمت کے اثرات یورو زون کے ہر ملک کی معیشت اور سیاست پر مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں