ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ’ہونے کے قریب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران کے ساتھ مذاکرات میں چھ عالمی طاقتیں حصہ لے رہی ہیں

اس بات کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جلد ہی کسی معاہدے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق چھ عالمی طاقتوں اور ایران نے سو صفحات پر مشتمل ایک مسودہ تیار کر لیا ہے۔

اس معاہدے سے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے اس پر عائد معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں گی۔

اس سے قبل فرانسیسی وزیرِ خارجہ لوراں فبیوس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ویانا میں جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں تھے۔

انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ مذاکرات کا نتیجہ ایک تاریخی معاہدے کی صورت میں نکلے گا۔

دوسری مہلت بھی ختم

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات کو پیر سے آگے تک نہیں جانا چاہیے، البتہ کام ابھی بھی باقی ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم بعض اہم فیصلے کر رہے ہیں‘۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ معاہدے کے لیے بہت پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ ہم بالآخر ان طویل مذاکرات کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

جرمن حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اب بھی ممکن ہے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں لیکن اگر تہران ایک آخری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہو تو معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

اتوار کی سہ پہر دو سفارت کاروں نے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں اور ابھی ایران اور جرمنی، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کی جانب سے انھیں دیکھا جانا باقی ہے۔

ایرانی سفارت کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک اور کام جو کہ اب بھی باقی ہے وہ 100 صفحات پر مشتمل مسودے کو دوبارہ پڑھنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کبھی کبھار کسی ملک کا مطالبہ صرف ایک لفظ کو تبدیل کرنے کے لیے ہوتا ہے لیکن اس کے لیے طویل مذاکرات کرنے پڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Department of State
Image caption مذاکرات کے اختتام پر طے پانے والےمعاہدے کو امریکی کانگرس کے پاس بھی بھجوایا جائے گا جو اس کا جائزہ لے گی

امریکی وزارتِ خارجہ نے بھی بہت ہی محتاط بیان دیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی مذاکرات کے ختم ہونے میں وقت کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کی۔

خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق ایک ایرانی افسر کا کہنا ہے کہ اتوار کو اس معاہدے تک پہنچنا مشکل ہے اور مشکل کام جاری ہے۔

امریکی سینیٹ میں رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ اہلکار مچ میکونل نے سوال اٹھایا کہ اگر معاہدہ طے پا بھی گیا تو کیا امریکی کانگریس اسے تسلیم کر لےگی۔

مچ میکونل نے فوکس نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا ’میرا خیال ہے کہ اگر یہ مکمل ہو چکا ہے تو اس پر دوسروں کو قائل کرنا بہت مشکل ہو گا۔‘

خیال رہے کہ اب امریکی کانگریس اس کی منظوری سے قبل جائزے کے لیے 30 بجائے 60 دن لے گی۔

ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران عالمی طاقتوں سے معاہدے کی صورت پر خود پر عائد اقتصادی پابندیوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے اُس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس پر عائد ہھتیاروں کی خریدو فروخت کی پابندی ہٹا لے، تاہم امریکہ ایسا نہیں چاہتا۔

اسی بارے میں