مشن پاکستان سے شروع ہوا، واپس جانا ضروری ہے: ملالہ یوسفزئی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امن کا نوبل انعام جیتنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان جانا ان کی ذمہ داری ہے اور ان کا خواب ہے کہ وہ وہاں بچوں کی تعلیم کے لیے کام کریں۔

اپنی 18ویں سالگرہ کے موقعے پر لبنان میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 18 سال کا ہونے کے بعد انھیں بالغ کہا جائے گا لیکن انھوں نے بچپن میں خواب دیکھنا سیکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھنا ضروری سمجھتی ہیں اور ان کی عمر جو بھی ہو، وہ خواب دیکھنا نہیں بھولیں گی۔

ان کا خواب ہے کہ ’ہر بچے کو اعلیٰ تعلیم حاصل ہو، ہر بچے کو امن و سلامتی کے ساتھ رہنے، اور صحت کی سہولیات میسر ہوں۔‘

مستقبل میں پاکستان جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان ضرور جائیں گی اور ان کا خواب یہی ہے کہ پاکستان جا کر اپنے ملک کی خدمت کریں اور وہاں کے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کریں۔

ان کا کہنا تھا: ’میرا مشن، میری مہم پاکستان سے ہی شروع ہوئی تھی۔ اگر میں پاکستان کے لیے کام نہیں کروں گی تو کس ملک کے لیے کروں گی؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جانا ان کی ذمہ داری ہے اور بطور پاکستانی شہری ان کی ذمہ داری ہے کہ وہاں جا کر بچوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنا مشن جاری رکھیں۔

اپنی 18ویں سالگرہ کے موقعے پر انھوں نے لبنان کی وادی بقاع میں ایک سکول کا افتتاح کیا جس میں شامی پناہ گزین لڑکیاں تعلیم حاصل کریں گی۔

18ویں سالگرہ جیسے اہم دن کو لبنان میں گزارنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ بہت بڑا ہے اور بیشتر عالمی رہنما اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں ہر مسئلے کو اٹھاؤں اور میں ایسا کرتی بھی ہوں۔ میں نے پاکستان میں وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کی بات بھی کی ہے۔

’اس وقت شام کے بچوں کا مسئلہ بہت بڑا ہے، یہ لوگ چار پانچ سال سے اپنے گھروں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم بہت ضروری ہے اور اگر کسی بچے کو پانچ سال تک تعلیم نہیں ملتی تو اس کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس لیے میرا لبنان آنا بہت ضروری تھا تاکہ اس مسئلے کو اٹھایا جائے اور عالمی سربراہوں سے کہا جائے کہ وہ اس پر مزید توجہ دیں۔‘

اسی بارے میں