یونان: پارلیمان میں بیل آؤٹ پیکج پر بحث، آئی ایم ایف کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاہدہ طے پا جانے سے یونان کے یوروزون سے نکلنے کا خطرہ بھی ختم ہو گیا ہے

یورو زون کے رہنماؤں کی جانب سے یونان کو دیے گئے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پر یونان کی پارلیمان بحث کر رہی ہے۔

یونان کے اراکینِ پارلیمان کے پاس بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پر بحث کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت نہیں ہے اور انھیں بدھ کو ان اصلاحات کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔

یونان کو نیا بیل آؤٹ پیکج دینے کے لیے معاہدہ طے پا گیا

یونان اب آمریت کے شکنجے میں؟

یورو زون اور یورپی یونین پر اثرات

یونان کے وزیراغطم ایلکسس تسیپراس نے پارلیمان کے ارکین سے کہا ہے کہ وہ اصلاحاتی پیکج کے حق میں فیصلہ دیں۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ بہت سے اراکینِ پارلیمان اس ڈیل کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے یورو زون کے رہنماؤں کی جانب سے یونان کو دیے گئے بیل آؤٹ پیکج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آئی ایک ایف کا کہنا ہے کہ یونان کو قرضوں سے چھٹکارے کی ضرورت تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے تنقید بہت سخت ہے۔

آئی ایم ایف نے جو تجاویز دی تھیں ان میں سے ایک تھی کہ قرضوں کو معاف کردیا جائے لیکن یورو زون نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

یونان کی پارلیمنٹ پر لازم ہے کہ بدھ کو چار قوانین منظور کرے۔پیر کو یونان اور یورو زون میں ہونے والے معاہدے کی یہ پہلی شرط ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یونان میں ترقی کی شرح غیر حقیقی طور پر بہت بلند ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگلے دو سالوں میں یونان کا قرضہ کُل قومی پیداوار کے 200 فیصد ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یونانی وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس کو اپنی ہی جماعت سے جن اصلاحات پر مخالفت کا سامنا ہے ان میں ٹیکسوں میں اضافہ اور پینشنوں میں کمی ہیں۔

یاد رہے کہ یونان نے آئی ایم ایف کو اپنے قرضوں کا 10 فیصد دینا ہے یعنی 1.1 ارب پاؤنڈ۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سخت تنقید کے باعث یونانی وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس کے لیے پارلیمنٹ کو چار قوانین منظور کرنے کے لیے قائل کرنے میں مشکلات ہوں گی۔

اس تنقید کے باعث یورو زون کی جانب سے اصلاحات کے مطالبات پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے اور قرضوں کو معاف کرنے کو تقویت ملتی ہے جس کے حق میں یونانی عوام نے بھی ووٹ دیا تھا۔

یاد رہے کہ پیر کو یورو زون کے رہنماؤں کے مابین طویل مذاکرات کے بعد یونان کو نیا بیل آؤٹ پیکیج دینے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

’معاہدہ ضروری نہیں

یورو زون کے رہنماؤں کے درمیان 17 گھنٹے تک برسلز میں یونان کے معاملے پر ملاقات جاری رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یونان کو یورو زون سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔

بحران کی وجہ کیا بنی

  • یونان سال 2018 تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے مزید 53.5 ارب یورو مانگ رہا ہے تاہم نیا بیل آؤٹ پیکیج 74 ارب یورو تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اسے ایک بڑے قرض کو ادا کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

  • یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیجز میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے تاہم یونان 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔

’سخت جنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

یونانی وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس نے معاہدہ طے پا جانے کے بعد کہا کہ ہم نے ایک سخت جنگ لڑی ہے، قرض کے اصول و شرائط طے کرنے میں جیت حاصل کی ہے اور پورے یورپ کو عزت اور وقار کا پیغام دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ مشکل ہے مگر ہم نے ملک کے اثاثوں کو باہر جانے سے روک لیا ہے۔

سنیچر کو ایسی اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ جرمن وزرا ایسے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں کہ اگر اس اختتام ہفتہ کے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ عارضی طور پر یونان کو یورو زون سے نکلنے کی اجازت دے دیں گے لیکن ایتھنز نے کہا ہے کہ اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ 74 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج میں 16 ارب یورو آئی ایم ایف جبکہ 58 ارب یورو یورو زون کے فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں