جاپانی فوج کے بیرون ملک کردار کا متنازع قانون منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قانون کی منظوری میں جاپان کی وزیراعظم شینزو آبے کی جماعت نے اہم کردار ادا کیا ہے

جاپانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے اس متنازع قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک کی فوج کو بیرون ملک زیادہ موثر کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار جاپانی افواج کو غیر ملکی سرزمین پر جنگ لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جاپانی وزیرِ اعظم شینزو ایبے کا کہنا ہے کہ فوج کا زیادہ موثر کردار، جاپان کو چین سمیت دیگر علاقائی خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا۔

تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قانون جاپان کے جنگ عظیم دوم کے بعد کے آئین سے متصادم ہے۔

شینزو ایبے کی جماعت کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے اس لیے قانون کی منظوری میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔

جمعرات کو ایوانِ زیریں میں اس قانون پر رائے شماری کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

پیر کو پارلمینٹ کی کمیٹی نے جب یہ قانون منظور کیا تھا تب بھی حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے وابستہ سیاستدانوں نے احتجاج کیا تھا۔

کمیٹی میں قانون سازی کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

انھوں نے کہا کہ وہ ’مسٹر ایبے کی سیاست کی کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس متنازع قانون سے

جاپان میں فوج کے کردار کو بڑھانے کے لیے یہ متنازع قانون سازی ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب چین اور جاپان کے درمیان بحیرۂ مشرقی چین میں جزیزوں کی ملکیت پر تنازع ہے۔

چین اور جاپان نے علاقائی اور تاریخی مسائل پر تناؤ پر طویل عرصے کے بعد اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔

بحیرۂ مشرقی چین میں آٹھ متنازع غیر آْباد جزیروں کا کل رقبہ سات کلومیٹر ہے۔ یہ انتہائی اہم جہازی راستوں کے قریب ہیں اور یہاں کے پانیوں میں مچھلیاں بھی وافر مقدار میں ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہاں تیل کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ ان جزیروں کو جاپان کنٹرول کرتا ہے۔ چین کہتا ہے کہ قدیم وقتوں سے یہ جزائر اس کی ملکیت رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تائیوان بھی ان پر اپنا حق جتاتا ہے۔

اسی بارے میں