سینائی شدت پسندوں کا مصری بحریہ کے جہاز پر حملے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انٹرنیٹ پر سائٹ انٹیلیجنس گروپ نامی ویب سائٹ نے شدت پسندوں کی جانب سے جادی کیا گیا بیان اور تصاویر شائع کی ہیں

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بحیرۂ روم میں مصری بحریہ کے ایک جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

سینائی پرووینس نامی تنظیم نے انٹرنیٹ پر اس حملے کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں بظاہر ایک میزائل اور پھر جہاز پر دھماکہ ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈ کے اس بحری جہاز پر شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد آگ لگ گئی۔

مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جو کہ شدت پسندوں کے دعوے کے برعکس ہے۔

یہ واقعہ غزہ پٹی کے قریب شمالی سینا کے علاقے رافع کے قریب ہوا۔

انٹرنیٹ پر سائٹ انٹیلیجنس گروپ نامی ویب سائٹ نے شدت پسندوں کی جانب سے جاری کیا گیا بیان اور تصاویر شائع کی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کے قریب دیگر بحری کشتیوں کو آتش زدہ جہاز کی جانب جاتا ہوا دیکھا گیا۔

اس سے قبل سینائی پرووینس نے مصری فوج پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں سترہ فوجیوں سمیت 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مصر کے حکام جزیرہ نما سینا سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک سینا کے علاقے میں ایمرجنسی نافذ ہے اور کرفیو لگا ہوا ہے۔

شدت پسند تنظیم سینائی پرووینس کا پرانا نام ’ انصار بیت المقدس‘ تھا لیکن سنہ 2014 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد انھوں نے اپنا نام تبدیل کر دیا۔

مصر میں سنہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد شدت پسند تنظیم سینائی پرووینس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں