جرمن پارلیمان میں یونان کے بیل آؤٹ پیکیج پر بات چیت کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یورو زون کے ممالک میں جرمنی کی جانب سے اس ڈیل کی منظوری لازمی ہے

جرمنی کی پارلیمنٹ نے یونان کو 86 ارب یورو کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

جمعے کو ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے دوران یونان کے بیل آؤٹ پیکیج پر ایک تحریک پیش کی گئی جس کے حق میں 429 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ اس کی مخالفت میں 119 ووٹ پڑے۔

ووٹنگ سے قبل جرمنی کی چانسلر انگلیلا میرکل نے متنبہ کیا تھا کہ اگر جرمنی کے ایوانِ زیریں نے اس منصوبے کی حمایت نہ کی تو شدید بدنظمی پیدا ہو سکتی ہے۔

یورو زون کے ممالک میں جرمنی کی جانب سے اس ڈیل کی منظوری لازمی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو یونان کے ارکان پالیمان نے بیل آؤٹ کے لیے ووٹنگ کی تھی اور حکومتی اراکین کی مخالفت کے باوجود بیل آؤٹ پیکیج کی سخت شرائط کی منظوری دی تھی۔

جرمن ووٹ کے بارے میں خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تقریباً تین ہفتوں کے بعد یونان میں پیر سے بینک کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اعلان یورپیئن سینٹرل بینک نے جون میں امداد منجمد کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ یونان کو ہنگامی امداد میں اضافے پر اتفاق کے بعد سامنے آیا ہے۔

تاہم حکام کے مطابق نقد رقم نکلوانے کی حد 60 یورو سے وقت کے ساتھ ساتھ ہی زیادہ ہو سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم ایلکسس تسیپراس کی توجہ مکمل طور پر اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے پر مرکوز ہے

اس سے قبل یوروزون کے وزرائے خزانہ نے یونان کو یورپی یونین کے فنڈ سے سات ارب یورو کا ’وقتی‘ قرضہ دینے پر اتفاق کیا تھا تاکہ بیل آؤٹ پیکج کی منظوری تک اس کے مالی معاملات جاری رکھے جا سکیں۔

واضح رہے کہ یونانی وزیرِ اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ایلکسس تسیپراس کی توجہ مکمل طور پر اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔

یونان میں گذشتہ تین ہفتوں سے بینک بند ہیں۔

یورپی رہنماؤں نے نئے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت یونان کو تین برس میں 86 ارب یورو تک کی فراہمی کی منظوری دی ہے تاہم اس کے لیے یونان کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے جیسے اقدامات کرنا ہوں گے۔

یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیجز میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے تاہم وہ رواں برس 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔

اسی بارے میں