ایران امریکہ پر اعتبار کیوں نہیں کرتا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اکتوبر سنہ 1979 میں ایرانی شاہ محمد رضا پہلوی کو انقلابِ ایران کی وجہ سے ملک چھوڑے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اور آیت اللہ خمینی نے فرانس سے واپس آ کر یکم اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے افسر جارج کیوو تہران گئے اور عبوری نائب وزیراعظم عباس امیر انتظام اور وزیرِ خارجہ ابراہیم یازیدی سے ملاقاتیں کیں۔

جارج کیوو نےخفیہ انٹیلیجنس پر مبنی ثبوت انھیں پیش کیا کہ ہمسایہ ملک عراق سے صدام حسین ان پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس وقت تک امریکہ نے انقلابِ ایران کو پلٹ کر واپس شاہ کے اقتدار کو بحال کرنے کی امید چھوڑ دی تھی۔ مگر پھر بھی ان کو امید تھی کہ وہ تہران میں نئے مقتدر عناصر کے ساتھ تعلقات بڑھا سکیں گے اور وہاں معتدل عناصر کی حوصلہ افضائی کریں۔ساتھ میں ان کی پہلی ترجیح تھی کہ وہ ایران کو سویت یونین کے خلاف بطور ایک لسٹنگ پوسٹ یعنی معلومات اکھٹے کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔

اس وقت امریکہ کو سویت یونین کی فکر سب سے زیادہ تھی۔

مگر یہ ہو نہ سکا۔

سب سے بڑا شیطان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر جمی کارٹر نے ایرانی شاہ کو 1977 میں وائٹ ہاؤس میں دعوت دی

جارج کیوو کی ملاقاتوں کے دو روز بعد ہی امریکی صدر جمی کارٹر نے انتہائی شدید دباؤ میں آکر سرطان کی بیماری میں مبتلا شاہ کو نیویارک میں علاج کی اجازت دے دی۔

تہران میں شدید احتجاج ہوا جس کے بعد 4 نومبر کو شہر میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بولا گیا۔ 61 سفارتکاروں اور سفارتخانے کے عملے کے افراد کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے بعد 444 دن تک جاری رہنے والا ڈرامائی تنازعہ شروع ہوا جس کے سائے سے دونوں ممالک حالیہ جوہری معاہدے کی وجہ سے پیدا ہونے والی امید کی کرن کے باوجود ابھی تک نہیں نکل پائے ہیں۔

ایرانی انقلابیوں کے لیے امریکہ ہمیشہ سے اور آج بھی سب سے بڑا شیطان ہے۔

وہی شاہ جس سے آج امریکہ جان چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا، اسی کو سی آئی اے اور برطانوی حکومت کی مدد سے کی گئی بغاوت کے ذریعے برسرِ اقتدار لایا گیا تھا۔ ایران میں تیل کی صنعت کو قومیانے کا ارادہ رکھنے والے وزیرِ اعظم محمد مصدق کو ہٹا دیا گیا۔

شاہ کے آمرانہ دورِ حکومت کی وجہ سے بلآخر بڑے پیمانے پر تہران میں احتجاج ہونے لگا اور شاہ کو ملک بدر ہونا پڑا۔

شاہ کے دور میں شان و شوکت کی چمک دمک اور اس پر ضیاع، انتہائی تیزی سے مغربی اقدار کو متعارف کروانا اور ان کی خفیہ پولیس سواک کے جابرانا انداز کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ سواک کو امریکی حمایت حاصل تھی اور شاہ تیزی سے لوگوں سے دور ہوتا جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایرانی شاہ کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے

انقلاب سے دو سال قبل صدر کاٹر نے شاہ کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا تھا کہ شاہ کی بہترین رہنمائی کی وجہ سے ایران استحکام کا جزیرہ ہے۔

امریکی سفارتخانے کا قبضے میں لیا جانا ایران اور امریکہ کے تعلقات کے لیے ہی نہیں بلکہ ایرانی انقلاب کے لیے بھی ایک اہم موقع تھا جس کی نوعیت کا اندازہ وزیراعظم مہدی بازارگان کی عبوری حکومت کے کئی مختلف دھروں کی شکل میں لگایا جا سکتا تھا۔

آیت اللہ خمینی نے شدت پسند ’طلنہ‘ کا ساتھ دیا جن میں کہا جاتا ہے کہ 2005 میں ملک کے صدر بننے والے محمود احمدی نژاد بھی شامل تھے۔ جیسے جیسے اسلام پسندوں کی گرفت مضبوط ہوتی گئی، مہدی بازارگان کی حکومت کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ بچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 4 نومبر کو تہران میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بولا گیا

انقلابِ ایران کی برآمد

اگلے سال، امریکی پیش گوئی کے مطابق صدام حسین نے مغربی عراق پر حملہ کر دیا اور بیسوں صدی کی طویل ترین جنگ شروع ہوگئی۔ اس کا اختتام 1988 میں ہوا جب آیت اللہ خمینی نے امن معاہدہ جیسے انھوں نے خود زہر کا پیالہ پینے کے مترادف قرار دیا تھا، مان لیا۔

اس جنگ کی وجہ سے اسلام پسندوں کو موقع مل گیا کہ وہ داخلی طور پر حکومت کے مخالف عناصر کو دبا سکیں جن میں کامیونسٹ اور مجاہدینِ خلق جیسی تنظیموں شامل تھیں۔

جیسے جیسے یہ طویل جنگ چلتی رہی، ایران کے مذہبی جنگجوؤں نے اپنے ملک کا انقلاب درآمد کرنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران عراق جنگ کی وجہ سے اسلام پسندوں کو موقع مل گیا کہ وہ داخلی طور پر حکومت کے مخالف عناصر کو دبا سکیں

مثال کے طور پر لبنان میں اپنے عسکری اتحادی، شام کے ہمراہ انھوں نے 1982 میں اسرائیلی حملے کے بعد شیعہ تنظیم حزب اللہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے اور فوجی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے اور لبنان میں امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کا ذمہ دار امریکہ نے انھیں ہی ٹھرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے اور فوجی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے کا ذمہ دار ایرانی قدامت پسندوں کو ٹھرایا گیا

ایران کو عراقی حملے کی مخبری کر کے ایرانی حمایت حاصل کرنے کی کوشش چھوڑ کر امریکہ نے اپنی دوستی بدل لی اور ایرانی فوجوں کی نقل و حرکت کی معلومات وہ عراق کو دینے لگا۔ اس کا مقصد ایرانی انقلاب کو محدود کرنا تھا۔

مگر دونوں جانب پسِ پردہ حقیقت پسندانہ رویہ ہی رہا۔

نومبر 1986 میں ایک لبنانی جریدے الشیرا نے ایک زبردست کہانی شائع کی جس کے مطابق لبنان میں امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے عوض امریکی حکام ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں پابندیوں میں جکڑے ایران میں ہتھیار پہنچا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لفٹینیٹ کرنل اولیور نارتھ پر کونٹرا افیئر میں فردِ جرم عائد کی گئی

یہ کہانی سچ نکلی۔ امریکہ ایران کو اسرائیل کی مدد سے ہتھیار فروخت کر رہا تھا۔ اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے امریکہ خفیہ طور پر نکواراگوا میں کونٹرا نامی باغیوں کی مدد کر رہا تھا۔

مگر سرکاری سطح پر تعلقات انتہائی کشیدہ تھے جن میں 1988 میں ایرانی مسافر طیارے کے ایک امریکی بحری جہاز کے ہاتھوں گرائے جانے اور 290 عام شہریوں کی ہلاکت جیسے واقعات شامل تھے۔

جوہری مذاکرات

1997 میں محمد خاتمی کے بھاری اکثریت کے ساتھ صدر منتخب ہونے اور ان کے ’تہذیبوں کے درمیان بات چیت‘ کے نعرے سے اور ادھر صدر کلنٹن کے اقتدار سنبھالنے سے مفاہمت کی امید جاگیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر خاتمی کی اصلاحات کو قدامت پسندوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا

مگر قدامت پسندوں نے ہر موڑ پر محمد خاتمی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں اور یہ موقع ضائع ہوگیا۔

ادھر 2001 میں جارج بش کے امریکی صدر بننے سے امریکہ میں بھی قدامت پسند طاقتور ہوگئے۔

9/11 کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ ہمسایہ ملک افغانستان میں باہمی دشمن طالبان کے خلاف تعاون کیا۔ خاتمی حکومت کو انعام یہ ملا کے ان کے ملک کو 2002 میں صدر بش نے ’ایکسز آف ایول‘ یعنی شیطانیت کے مرکز ممالک میں شامل کیا۔

اسی سال کے اختتام پر مجاہدینِ خلق نامی ملک بدر افراد ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کو منظرِ عام پر لے آئے۔

یورپ نے اس کو ایران کے ساتھ ’تعمیراتی بات چیت‘ کا موقعہ قرار دیا۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ متعدد بار یورینیئم کی افزودگی رکوانے کے لیے تہران گئے۔ امریکی اس معاملے میں پیچھے رہے۔

2004 کے اختتام میں ایران نے افزودگی روکنے کی حامی بھر لی مگر اس بار بھی ملک میں قدامت پسند عناصر میدان میں آگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2003 میں سیکیورٹی چیف کے طور پر حسن روحانی نے مغربی ممالک کے ساتھ جوہری معاملات پر مذاکرات کیے

2005 میں احمدی نژاد صدر بنے اور اگلے سال افزودگی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا۔

ایران کے جوہری منصوبے کے حتمی نگہبان، قومی سلامتی کونسل کے چیف حسن روحانی نے اس واقعے اور ماضی سے دو باتیں سکھیں۔

پہلے تو یہ کہ ایران کے جوہری معاملے پر پیش رفت کے لیے ایران کو امریکہ کو معاملات میں ملانا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ تہران کے قدامت پسندوں کا ماننا ضروری ہے ورنہ وہ کوئی بھی معاہدہ خراب کر دیں گے۔

حسن روحانی کو معاہدے کی دوبارہ کوشش کرنے کے لیے آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔ 2013 میں صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے مغربی ممالک سے بات چیت اور ایران کے جوہری تنازع کے حل کی ایک قرارداد پیش کی جس پر خوشی کے وہ مناظر دیکھنے کو ملے جو کہ صدر خاتمی کی آمد پر نظر آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2005 میں احمدی نژاد صدر بنے اور اگلے سال آفزودگی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا

احمدی نژاد اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ ان کی عوام میں مقبول اقتصادی پالیسیوں کا ملک کے خزانے پر بہت بڑا بوجھ تھا۔ یورینئیم کی افزودگی بحال ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیاں پھر لاگو تھیں جس کی وجہ سے ایران کو مالی مشکلات بھی ہو رہی تھیں۔ اور اس سب کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی نے ایرانی آمدنی کو اور بھی کم کر دیا۔

ادھر عرب ممالک میں عرب سپرنگ نامی احتجاجی لہر نے معاملات کو اور بھی غیر مستحکم کر دیا۔ ایران کے حمایتی ملک شام میں بھی عرب سپرنگ نے حکومت کو بہت نقصان پہنچایا۔ایران میں ایک اور احتجاجی لہر کو روکنا 2009 میں احمدی نژاد کے متنازع الیکشن کے نتیجے میں ہونے والی گرین ریولوشن کی طرح دبانا قدرے مشکل ہونا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2013 میں صدر منتخب ہونے کے بعد حسن روحانی نے مغربی ممالک سے بات چیت اور ایران کے جوہری تنازع کے حل کی ایک قرارداد پیش کی

ایسے موقعے پر کچھ تو کرنا ضروری تھا۔ اور حسن روحانی وہ شخص تھے جو کچھ کرنا بھی چاہتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کی کامیابی کے لیے تمام ستارے گردش میں آگئے۔

تاریخی معاہدہ

یہ صرف صدر روحانی کی خواہش ہی نہیں بلکہ نظام اور وقت کی ضرورت تھی، یہ بات اس امر سے واضح ہے کہ ایرانیوں اور امریکی حکام کے درمیان خفیہ مذاکرات 2013 میں صدر روحانی کے اقتدار سنبھالنے سے ایک سال قبل ہی شروع ہوگئے تھے۔

مشرقِ وسطیٰ میں سیاست صرف ممکنات کا ہی نہیں، ضرویات کا بھی کھیل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس معاہدے کو قدامت پسندوں نے بھاری دل سے جبکہ آزاد خیال طبقات نے جوش و جذبے سے قبول کر لیا ہے

دو سال کے مشکل ترین مذاکرات میں حسن روحانی اور ان کے پسندیدہ وزیرِ خارجہ جواد زریف نے ایک عمدہ اننگز کھیل دی ہے۔ سب سے اہم یہ کہ انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو ہر موقعے پر پوری طرح باخبر رکھا اور انھیں ایران کی جانب سے دی جانے والی رعایات کی ضرورت پر راضی بھی کیا۔یہی وجہ ہے کہ جو معاہدہ ہوا ہے اسے تہران میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

اس معاہدے کو قدامت پسندوں نے بھاری دل سے جبکہ آزاد خیال طبقات نے جوش و جذبے سے قبول کر لیا ہے۔

ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ معاہدہ تاریخی ہے تاہم شاید اس کی وجہ یا پس منظر ہر کسی کا علیحدہ ہوا۔

خود صدر روحانی کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور ایرانی کئی نسلوں تک اس پر فخر کریں گے۔

ایران کے دوست ملک شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران، خطے اور دنیا، سب کے لیے ایک اہم موڑ ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسے ایک تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہت عرصے سے تہران سے ملنے والے اشارے یہی کہتے ہیں کہ ایران تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے

اس معاہدے کے اثرات کہاں تک جاتے ہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ممکن ہے کہ عسکری لحاظ سے یہ داخلی طور پر ایک غیر مستحکم خطے میں صفیں تبدیل کر دے۔ ایران کے دوستوں کو اسی کی امید اور دشمنوں کو اسی کا خدشہ ہے۔

اگرچہ معاہدہ صرف جوہری معاملے تک محدود ہے تاہم دونوں جانب لوگوں کو امید ہے کہ اس سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ امکان اس بات کا بھی ہے کہ خطے کے کئی مسائل جیسے شام، عراق، لبنان یا یمن جن میں ایران بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ایک اہم کردار ہے، ان معاملات میں بہتری آ سکے گی۔

عراق میں گذشتہ ایک سال سے ناراض سنی مسلمان ایرانی امریکی اتحاد کی بات کرتے رہے ہیں۔چند سال قبل جو شیعہ ملیشیا امریکیوں کو اغوا کر رہی تھی آج اسی کی حمایت میں امریکی طیارے بم برسا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چند سال قبل جو شیعہ ملیشیا امریکیوں کو اغوا کر رہی تھی آج اسی کی حمایت میں امریکی طیارے بم برسا رہے ہیں

لبنان میں مغربی سفارتکار کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو ملک میں استحکام پیدا کرنے والا عنصر تصور کرتے ہیں۔

طاقت کی دوڑ

اس معاہدے کے حوالے سے آئندہ کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں جن کا درست اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ دونوں طرف قدامت پسند اس معاہدے کو ناکام کرنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آیت اللہ خامنئی نے کہا ہے کہ ’تکبر کے خلاف جنگ‘ جاری رہے گی

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’تکبر کے خلاف جنگ‘ جاری رہے گی۔ آج تو روحانی اور زریف کو تہران میں ہیرو سمجھا جا رہا ہے مگر چھریاں بھی تیز ہو رہی ہوں گی۔

اپنے پیشرو کی طرح آیت اللہ خامنہ ای کو بھی مجبوراً یہ زہر کا پیالہ پینا پڑا ہے۔ ان سمیت قدامت پسند ایران اور دنیا بھر کے نئے روابط سے سماجی، ثقافتی اور سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے۔

تیزی سے تبدیلیوں کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ بس اتنی تبدیلی آئے جس سے پابندیاں ہٹ جائیں مگر معاشرے میں زیادہ رو د بدل نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک اہم طاقت ور جز ایران کی فوج ہے جس کا اثر و رسوخ ایرانی سیاست اور بیرونِ ملک عسکری مفادات تک ہی نہیں بلکہ اقتصادی معاملات میں بھی بہت زیادہ ہے

یہ بھی اہم ہے کہ اسلامی جمہوریہِ ایران کے نظام میں صرف ایک مقتدر قوت نہیں ہے۔ اس ملک کے سیاسی نظام میں مختلف پاور ہاؤس ہیں اور کبھی کبھی وہ سب ایک ہی پیچ پر ہوتے ہیں جیسے کہ یہ جوہری معاہدہ مگر زیادہ تر ان کے درمیان تنازعات بھی رہتے ہیں۔

ایک اہم طاقتور جز ایران کی فوج ہے جس کا اثر و رسوخ ایرانی سیاست اور بیرونِ ملک عسکری مفادات تک ہی نہیں بلکہ اقتصادی معاملات میں بھی بہت زیادہ ہے۔

کیا وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے اتحادی بن جائیں گے؟ یا پھر جیسا کہ سعودیوں کو فکر ہے کہ ایران اضافی آمدنی سے صرف بیرونِ ملک مداخلت بڑھا دے گا۔

یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جن کے جواب ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

اس معاہدے کے لیے کئی ستاروں کو سیدھا ہونا پڑا ہے اور مزید اطلاعات آنے تک اسے تاریخی کہنا بالکل جائز ہے۔

اسی بارے میں