نائیجریا: نمازِ عید کے موقعے پر بم دھماکوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے پُرتشدد کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ فائل فوٹو

نائیجریا میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ داماترو کے قصبے میں جمعے کے روز عید کی نماز کے دوران ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے ترجمان کرنل سانی عثمان نے بتایا کہ ان حملوں میں ایک دس سالہ لڑکی سمیت دو خواتین خودکش بمبار ملوث تھیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں خودکش بمبار نے نمازیوں کی تلاشی کے لیے کھڑے رضاکاروں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

یہ دھماکے عید کی نماز کے لیے مختص کھلے میدان یعنی عید گروانڈ میں ہوئے۔

اب تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے پُرتشدد کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

رواں سال مئی میں صدر محمودو بوہاری کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی علاقوں کو بوکو حرام سے خالی کروایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی شدت پسند تنظیم کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران نائیجریا میں پرتشدد حملوں میں تقریباً تین سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کی وجہ سے عید کی نماز کے لیے مخصوص جگہوں کو پہلے سے اچھی طرح سرچ کیا گیا تھا۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پہلے دھماکے میں چار جبکہ دوسرے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے عینی شاہد اور سکیورٹی امور کے رضاکار احمد آدمو نے بتایا کہ ’پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 15 منٹ پر ہوا جب سکیورٹی کے لیے رضاکار وہاں اکٹھے ہو رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے دھماکے کے بعد ہم متاثرین کو دیکھ رہے تھے تو ہم نے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ایک اور دھماکے کی آواز سنی۔‘

اس سے قبل جمعرات کو نائیجریا کے شہر گومبے کے بازار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 49 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں