یمنی حکومت کا عدن کو حوثی باغیوں سے خالی کروانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں برس مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے

یمن کی مفرور حکومت نے نائب صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے عدن کو حوثی باغیوں سے ’آزاد‘ کروا لیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں خودساختہ جلا وطنی گزارنے والے نائب صدر خالد باہا نے کہا کہ حکومت صوبے میں بنیادی خدمات بحال کرنے پر کام کر رہی ہے۔

گذشتہ چار ماہ کے دوارن عدن میں باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

رواں سال مارچ میں حوثی باغیوں کی جانب سے پیش قدمی کے بعد حکومت نے اپنا گڑھ سمجھے جانے والا شہر عدن چھوڑ دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے عدن میں حوثی باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ جس میں کسی حد تک کامیابی ہوئی ہے۔

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عدن کے مختلف علاقوں میں جمعے کو بھی فائرنگ جاری رہی اور شمالی اور مشرقی داخلی راستوں پر ابھی بھی باغیوں کا قبضہ ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو ملک کے مفرور صدر منصور ہادی کی حکومت میں شامل کئی وزرا اور خفیہ اداروں کے حکام عدن پہنچے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ حکام ہیلی کاپٹر کے ذریعے جمعرات کو ساحلی شہر پہنچے۔

فیس بک پر جاری ہونے والے بیان میں نائب صدر نے کہا کہ ’حکومت نے عدن شہر کو باغیوں کے قبضے سے چھڑوانے کا اعلان 17 جولائی کو عید کے پہلے دن کیا ہے۔ ہم عدن شہر میں زندگی کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور آزاد کروائے گئے باقی تمام شہروں میں پانی اور بجلی کا نظام بحال کیا جائے گا۔‘

عدن یمن کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہاں ملک کی مرکزی بندرگاہ بھی ہے۔ ہفتوں سے جاری لڑائی اور فضائی حملوں کی وجہ سے شہر کو نقصان پہنچا ہے۔

عدن شہر سے پسپائی کو باغیوں کے لیے ایک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سال مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے۔

یمن میں صدر ہادی کے اقتدار کو پھر سے بحال کروانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج حوثي باغیوں اور ان کے حامی جنگجوؤں پر 26 مارچ سے فضائی حملے کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جمعے سے انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ دیر بعد جنگ بندی ٹوٹ گئی اور فریقین میں شدید لڑائی شروع ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ پندرہ ہفتے سے یمن میں جاری لڑائی میں کم سے کم 3200 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ عام شہری ہیں.

اس کے علاوہ 10 لاکھ سے بھی زیادہ لوگ یمن چھوڑ چکے ہیں اور یمن کی دو تہائی آبادی کو اس وقت انسانی مدد کی سخت ضرورت ہے۔

اسی بارے میں