’دولت اسلامیہ نے کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’جون میں داعش کے جنگجوؤں نے کرد گروپ ’وائی پی جی‘ پر دو مرتبہ اسی قسم کے ہتھیار استعمال کیے تھے‘

کُرد جنگجوؤں اور اسلحے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نےگذشتہ ماہ شام اور عراق میں کرد فوجیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں جاری لڑائی پر نظر رکھنے والی دو تنظیموں ’سی اے آر‘ اور ’سحان ریسرچ‘ نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 21 یا 22 جون کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراقی کُرد پیشمرگا پر جو حملہ کیا تھا اس میں ایک ایسا گولہ بھی داغا تھا جس میں کیمیائی مادہ بھرا ہوا تھا۔

اس کے علاوہ اِن دونوں تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 28 جون کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کُرد گروپ ’وائی پی جی‘ پر دو مرتبہ اسی قسم کے ہتھیار استعمال کیے تھے۔

پیپلز پروٹیکشن یونٹس یا ’وائی پی جی‘ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ان دو حملوں میں جو گولے پھینکے وہ جب زمین پر گرے تو ان میں سے پیلے رنگ کی گیس خارج ہوئی جس کی بدبو گلے سڑے پیاز کی مانند تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ جن مقامات پر یہ گولے گرے ان کے ارد گرد کی زمین پر پہلے سبز رنگ کا مادہ دیکھا گیا لیکن بعد میں دھوپ سے اس کا رنگ پیلا ہوگیا۔

’ کیمیائی گیس سے ہمارے فوجیوں کے گلے، آنکھوں اور ناک میں شدید جلن شروع ہوگئی اور سر اور باقی جسم میں شدید درد ہونے لگا۔ گیس میں زیادہ دیر تک سانس لینے والے فوجیوں کو قے بھی ہوئی اور انھیں چلنے پھرنے میں معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں جاری خانہ جنگی میں بھی کئی مرتبہ کیمیائی ہھتیاروں کے استعمال کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔

’وائی پی جی‘ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیمیائی مادے کے استعمال کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے جو اسحلہ اور ہھتیار چھینا گیا تھا ان میں ایسے ماسک بھی موجود تھے جو کیمیائی گیسوں سے بچاؤ کے لیےاستعمال کیے جاتے ہیں۔

’سی اے آر‘ اور ’سحان ریسرچ‘ کا دعوٰی ہے کہ دولت السلامیہ کے حملوں میں زخمی ہونے والے پیشمرگا فوجیوں کے پیشاب کے نمونوں کے معائنے سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ان کے جسم میں ایک ایسا کیمیائی مادہ تھا جو فصلوں میں کیڑوں مکوڑوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، تاہم یہ تنظیمیں اس مادے کی کیمیائی ساخت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکی ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں بھی کئی مرتبہ کیمیائی ہھتیاروں کے استعمال کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ . ان واقعات میں سب سے زیادہ مہلک حملہ اگست 2013 میں دمشق کے نواح میں شامی باغیوں کے ایک مضوط گڑھ پر ہوا تھا جس میں 1,400 کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ شامی باغیوں اور بین الاقوامی برادری کی اکثریت کا کہنا تھا کہ یہ کیمیائی ہتھیار بشارالاسد کے فوجیوں نے استعمال کیے تھے۔

اگرچہ اُس وقت شامی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی لیکن بعد میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے ایک معاہدے پر عمل کرتے ہوئے وہ اپنے کیمیائی ہھتیاروں سے دستبردار ہو گئے تھے۔

شام میں مارچ 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ تیس ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں