جانوروں کے لیے پنکھے، ایئر کنڈیشنرز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بائیس سے چوبیس سینٹی گریڈ کا درجۂ حرارات گائے کے لیے بہت مناسب ہوتا ہے‘

اٹلی میں شدید گرمی کی لہر کے دوران جانوروں کو ان کے سٹالوں میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشنروں کے ذریعے ٹھنڈا رکھا جا رہا ہے۔ جانوروں کو نہلایا بھی جا رہا ہے تاکہ وہ گرمی سے بچے رہیں۔

اٹلی میں آج کل درجۂ حرارت چالیس ڈگری تک پہنچ گیا ہے اور شدید گرمی کی وجہ سے ملک بھر میں فارم ہاؤس کے جانوروں کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔

اخبار ’لا ریپبلیکا‘ نے کولڈیرٹی فارمنگ ایسوسی ایشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرمی کی ماری ہوئی گائیوں نے جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں پچاس ملین لیٹر کم دودھ دیا ہے۔

اس ادارے کے مطابق ’بائیس سے چوبیس سینٹی گریڈ کا درجۂ حرارات گائے کے لیے بہت مناسب ہوتا ہے۔ اگر درجۂ حرارت اس سے زیادہ ہو جائے تو جانوروں کی خوراک کم ہو جاتی ہے، وہ پانی بہت زیادہ پیتے ہیں اور کم دودھ دیتے ہیں۔‘

کولڈیریٹی گروپ کا کہنا ہے ’(گرمی اتنی ہے کہ ) ہر گائے روزانہ ایک سو چالیس لیٹر تک پانی پی رہی ہے اور یہ مقدار اس سے دگنی ہے جتنی ایک گائے کسی بھی ٹھنڈے دن پانی پیتی ہے۔‘

گروپ نے کہا ہے کہ صرف گائیں ہی نہیں جو گرمی کی لہر سے متاثر ہیں، سؤر اور مرغیاں بھی حرارت سے بہت متاثر ہیں اور مرغیوں کے انڈے دینے کی تعداد میں پانچ سے دس فیصد کمی ہوگئی ہے۔

بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے کئی علاقوں میں واقع جنگلوں میں آگ لگ گئی ہے۔ بدھ کو جنوب میں کمپینیا کے علاقے میں بائیس مقامات پر آگ لگی۔

اٹلی کے شمال میں واقع بڑی جھیلوں میں گرمی کی وجہ سے پانی کی سطح کئی سینٹی میٹر تک کم ہو گئی ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر بھی درجۂ حرارت بہت زیادہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اٹلی میں وزارتِ صحت نے سنیچر کے لیے بائیس شہروں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کی تھی