سعودی شاہ سلمان اور حماس رہنما خالد مشعل کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ چند برسوں سے حماس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز نے عمرے کے سلسلے میں مکہ مکرمہ آئے ہوئے حماس کے رہنما خالد مشعل سے ملاقات کی ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق خالد مشعل نے سعودی عرب کے فلسطین کے معاملے پر موقف کی تعریف کی۔

یہ گذشتہ چار سال میں پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سعودی بادشاہ نے غزہ کی پٹی میں برسرِاقتدار حماس کے رہنما سے ملاقات کا اعتراف کیا ہو۔

گذشتہ چند برسوں سے حماس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، جس کی وجہ 2013 میں مصر میں معزول صدر محمد مرسی کی برطرفی کے معاملے پر مصری فوج کے لیے سعودی حمایت ہے۔

حماس کے محمد مرسی اور ان کی پارٹی اخوان المسلمین کے ساتھ گہرے مراثم ہیں۔ حماس روایتی طور پر ایران کی اتحادی بھی تصور کی جاتی ہے اور سعودی عرب ایران کو علاقائی طور پر اپنا حریف مانتا ہے۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور حماس کے درمیان پسِ پردہ روابط قائم ہیں۔

خالد مشعل 2012 سے خلیجی ملک قطر میں رہائش پذیر ہیں۔ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف باغیوں کا ساتھ دینے کا اعلان کرنے کے بعد انھیں دمشق چھوڑنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں