یونان: ’پیر کو بینک کھل جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونان میں مالی بحران کے پیشِ نظر بینکوں سے ایک وقت میں زیادہ رقم نکالنے پر پابندی ہے

یونان میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ پیر کے روز سے ملک میں بینک دوبارہ کھول دیے جائیں گے اور لوگوں کے پیسے نکالنے کی پابندیوں میں بھی نرمی کی جائے گی۔ تاہم اعلان کے مطابق ملک سے پیسے باہر لے جانے پر پابندی برقرار رہے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کو یورپی سنٹرل بینک نے ملک میں حکومت کی جانب سے اصلاحات کے اہم پیکیج کی حمایت کے اعلان کے بعد یونانی بینکوں کو سپورٹ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی کی پارلیمان نے جمعے کو یونان اور دیگر یورپی قرض خواہوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی منظوری دی تھی۔

یونانی حکومت کے اس اعلان سے قبل یونان کے سابق وزیرخزانہ نے کہا تھا کہ ملک کی اقتصادی اصلاحات ’ناکام ہونے جارہی ہیں۔‘

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیل آؤٹ سے متعلق باضابطہ بات چیت کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان کا کہنا تھا کہ یونانی وزیراعظم ایکسس تسیپراس کے پاس بیل آؤٹ تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیرخزانہ وروفاکس کا کہنا ہے کہ یونان جس پروگرام پر عمل پیرا ہے وہ ’تاریخ کی بدترین میکرو اکنامک مینجمنٹ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

وروفاکس کا کہنا تھا کہ ’جو کوئی بھی اس پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے یہ پروگرام ناکام ہونے جارہا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے؟ تو ان کا کہنا تھا: ’یہ پہلے ہی ناکام ہوچکا ہے۔‘

واضح رہے کہ یونانی وزیرخزانہ نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، اس حوالے سے قیاس ہے کہ ان کا یہ اقدام یوروزون کے وزرائے خارجہ کی جانب مصالحت پسندی کا اشارہ تھا جس کے ساتھ اکثر ان کے شدید اختلافات رہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونانی وزیراعظم ایکسس تسیپراس کے پاس بیل آؤٹ تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔

’ہمارے پاس دو ہی راستے تھے مشروط اطاعت قبول کرنا یا مرنا۔ اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ مشروط اطاعت قبول کرنا ہی آخری سٹریٹیجی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم تسیپراس نے پارلیمان میں اصلاحات کے خلاف ووٹ دینے والے کئی وزرا کو برطرف کر دیا ہے

دوسری جانب وزیراعظم تسیپراس نے اپنی کابینہ میں رد و بدل کی ہے اور رواں ہفتے پارلیمان میں اصلاحات کے خلاف ووٹ دینے والے کئی وزرا کو برطرف کر دیا ہے۔

وزیر توانائی پناگیوٹس لافزانس کا شمار بھی ان باغی سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنھیں تبدیل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم تسیپراس ان کی جگہ ٹیکنوکریٹس یا حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو تعینات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ایتھنز میں نمائندہ بی بی سی مارک لوبیل کے مطابق اس کے نتیجے میں ان وزرا کی صدارت کریں گے جنھیں اصلاحاتی پروگرام کے بارے میں شدید شبہات ہیں۔

واضح رہے کہ یونان کو بیل آؤٹ کے لیے اگلے بدھ تک اصلاحات کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔

اسی بارے میں