ٹمبکٹو: مزارات کی تعمیر نو، ’جنگی جرائم کا مقدمہ چلائیں گے‘

Image caption یونیسکو کی سربراہ ارینا بوکووا نے دوبارہ تعمیر کیے گئے مزارات کے افتتاح پر کہا کہ 1954 کے ہیگ کنونشن کے تحت عالمی ثقافتی ورثے کو تباہ کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے

مالی کے شہر ٹمبکٹو میں حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں تین سال قبل تباہ کیے گئے 14 مزارات کو دوبارہ تعمیر کردیا گیا ہے۔

مزارات کی تعمیر نو کا کام اقوام متحدہ کے ادارے برائے ثقافت یونیسکو کے تحت کیا گیا۔

یونیسکو کی سربراہ نے ٹمکٹو کا دورہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ جن لوگوں نے ان مزارات کو منہدم کیا ان کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ ٹمبکٹو کا پورا شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے قرار دیا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹمبکٹو کا پورا شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے قرار دیا ہوا ہے

ٹمبکٹو 13 ویں سے 17 ویں صدی تک اسلامی علوم کی اہم درسگاہ رہی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب اس شہر میں 200 سکول اور یونیورسٹیاں تھیں اور مسلمان ممالک سے لوگ یہاں علم حاصل کرنے آتے تھے۔

جن مزارات کو اسلامی دشت پسندوں نے تباہ کیا تھا وہ ٹمبکٹو کے بانیوں کے مزارات تھے۔

مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک انصار داعین گروہ نے شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس گروہ نے اس سے قبل بھی شہر کی کئی زیارت گاہوں تباہ کیا اور اس سلسلے میں ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ اسلام کے منافی ہیں۔

انصار داعین کے ترجمان سانڈا آولڈ بمانا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی تحریک نے اس سلسلے میں تقریباً نوے فیصد اہداف پورے کر لیے ہیں اور ایسی تمام زیارت گاہوں کو برباد کردیا ہے جو شریعت کے خلاف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک انصار داعین گروہ نے شہر پر قبضہ کر لیا تھا

جنوری 2013 میں فرانسیسی افواج نے آپریشن کر کے شدت پسندوں کو شہر سے نکال دیا۔

یونیسکو کی سربراہ ارینا بوکووا نے دوبارہ تعمیر کیے گئے مزارات کے افتتاح پر کہا کہ 1954 کے ہیگ کنونشن کے تحت عالمی ثقافتی ورثے کو تباہ کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

’یونیسکو نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ سے مزارات کی تباہی کے سلسلے میں رجوع کیا ہے۔ میں دو ماہ قبل استغاثہ سے ملی تھی اور میرے خیال میں اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ اور امید ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں مقدمہ پیش کر دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹمبکٹو 13 ویں سے 17 ویں صدی تک اسلامی علوم کی اہم درسگاہ رہی ہے

اسی بارے میں