امریکی نیوی پر حملہ: گن مین نے ’جنگ سے متعلق پیغام بھیجا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chattanooga Police Department
Image caption ایف بی آئی کے مطابق اس بارے میں شواہد نہیں ملے کہ محمد یوسف عبدالعزیز کا کسی بین الاقوامی دہشت گرد گروہ سے تعلق ہے

امریکہ میں گذشتہ جمعرات کو ریاست ٹینسی میں امریکی نیوی کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے 24 نوجوان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انھوں نے حملہ کرنے سے ایک رات قبل اپنے ایک دوست کو ’اعلانِ جنگ‘ سے متعلق مذہبی آیات کا پیغام ارسال کیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق محمد یوسف عبدلاعزیز نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تصادم پر بھی بات کی تھی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ محمد یوسف عبدالعزیز کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے محرکات کو جاننے کے لیے ان کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

بتایاگیا ہے کہ ان کے اہلِ خانہ اس صورتحال کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

محمد یوسف کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ بہت سالوں تک ان کا بیٹا ڈپریشن کا شکار رہا۔ خاندان نے ان کے اس اقدام کو گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب روئیٹرز اور نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ محمد یوسف نے اپنے ایک دوست کو ایک حدیث پیغام میں بھجوائی جس میں جنگ سے متعلق قرآن کی آیت کا حوالہ تھا۔

’جو بھی میرے دوست کے خلاف شمنی کا مظاہرہ کرے گا، میں بلاشبہ اس کے خلاف اعلانِ جنگ کروں گا۔‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حملہ آور محمد یوسف کےایک دوست نے بتایا کہ یہ پیغام موصول ہونے پر اس وقت تو انھوں نے کچھ نہیں سوچا تاہم اب وہ حیران ہیں کہ شاید یہ ان کی جانب سے حملے کا اشارہ تھا۔

حملہ آور کے ایک اور دوست نے روئیٹرز کو بتایا کہ محمد یوسف نے گذشتہ برس اردن کے دورے سے واپسی پر اپنی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے تصادم پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور شام میں ہونے والی خانہ جنگی پر بھی برہم تھے۔

’وہ ہمیشہ اس بارے میں بات کرتا تھا، مگر میں یہ کہوں گا کہ جب وہ واپس لوٹا تو اس کے سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اردن سے واپسی کے بعد محمد یوسف نے آن لائن تین گنیں بھی خریدی تھیں اور وہ نشانے بازی کی مشق کرتے تھے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی نیوی کے ریزرو سینٹر اور ایک بھرتی کے دفتر پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں نیوی کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

سٹی پولیس کا کہنا تھا کہ دو مقامات پر فائرنگ کرنے والا شخص ایک ہی تھا جسے ہلاک کر دیا گیا۔

ابتدائی طور پرایف بی آئی کا کہناتھا کہ اس بارے میں شواہد نہیں ملے کہ محمد یوسف عبدالعزیز کا کسی بین الاقوامی دہشت گرد گروہ سے تعلق ہے۔

اسی بارے میں