ترکی کے جنوبی شہر سوروچ میں دھماکہ، 31 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک حکام نے دھماکے کی نوعیت کا نہیں بتایا تاہم اطلاعات کے مطابق یہ ’خودکش دھماکہ‘ تھا

ترکی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شام کی سرحد سے متصل شہر سوروچ میں واقع ایک ثقافتی سینٹر میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور ایک سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

ترکی کے ایک سرکاری اہلکار کے مطابق شام کے شہر کوبانی کے قریب ترکی کی حدود میں واقع آمارا کلچرل سینٹر کے باغیچے میں ہوا۔

حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ’دولتِ اسلامیہ‘ ملوث ہے۔ حکام کو شبہہ ہے کہ خود کش بمبار ایک عورت تھی۔

صدر طیب اردوغان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشتگردی‘ سے تعبیر کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت سینٹر میں نوجوانوں کی ایسوسی ایشن کے 300 ارکان کا وفد موجود تھا۔

فیڈریشن آف سوشلسٹ یوتھ ایسوسی ایشن’ ایس جی ڈی ایف‘ کے 300 ارکان کوبانی کی تعمیرنو میں حصہ لینے لیے کلچرل سینٹر میں موجود تھے۔

کرد حزب اختلاف کی جماعت ای ڈی پی کے رکن پارلیمان پروین بلدان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ’ مقامی اہلکار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خودکش دھما کہ تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ’ترک اور کردش نوجوان یہاں کوبانی جانے کے لیے آئے تھے اور انھوں نے وہاں تین سے چار دن تک تعمیرنو کی سرگرمیوں کے لیے رکنا تھا۔‘

Image caption یوتھ فیڈریشن کی جانب سے دھماکے سے کچھ دیر پہلے سماجی رابطوں پر شیئر کی جانے والی تصویر

شام کے شہر کوبانی پر خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے حملے کے بعد وہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد نےسوروچ میں پناہ لی تھی۔

سوروچ کے ضلعی گورنر عبداللہ سفتسی کا کہنا ہے کہ ’چونکہ یہ ایک خود کش حملہ ہے، اس لیے اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ اس کی ذمہ دار دولتِ اسلامیہ ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ خود کش بمبار ایک عورت تھی۔‘

بی بی سی ترک سروس سے بات کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ ابتدائی معلومات سے لگتا ہے کہ یہ عورت اکیلی حملہ آور تھی۔

اس وقت ترکی میں شامی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ سوروچ میں میں واقع ہے اور اس میں 35 ہزار کے قریب شامی پناہ گزین موجود ہیں۔

کوبانی میں گذشتہ سال ستمبر سے ’دولتِ اسلامیہ‘ کے شدت پسندوں اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور اس وقت کرد جنگجوؤں نے شہر کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔

اسی بارے میں