آئی فونز کی طلب زیادہ ہونے سے ایپل کے منافعے میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کمپنی کے چیف ایگزیٹو ٹم کک نے اس سہماہی کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ آئی فونز کی طلب میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے اس کے منافعے میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کپمنی نے بدھ کو رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے منافعے کا اعلان کیا لیکن آئندہ سہ ماہی میں کمپنی کی آمدن کی توقعات میں کمی کی وجہ سے بازار حصص میں ایپل کمپنی کے شئیر کی قمیت کم ہوئی ہے۔

ایپل نے 27 جون کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران چار کروڑ 75 لاکھ آئی فونز فروخت ہوئے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہیں جبکہ اس عرصے کے دروان میک کمپیوٹر کی فروخت میں نو فیصد اضافے کے ساتھ 48 لاکھ رہی۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے اس سہ ماہی کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔

کمپنی کے منافعے میں 38 فیصد اضافہ ہوا اور اس سہ ماہی کے دوران ایپل کا منافغ 10 ارب 70 کروڑ ڈالر رہا جبکہ کمپنی کی آمدن میں 33 فیصد اضافے کے بعد 49 ارب 60 کروڑ ڈالر رہی۔

ایپل کی تیسری سہ ماہی میں آئی فونز کی فروخت گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے کیونکہ صارفین نئے ماڈل کے فون کے منتظر ہیں اور اس لیے انھوں نے پرانے ماڈل کے آئی فونز خریدنے کے بجائے نئے ماڈل کو ترجیح دی ہے۔

سال کی آخری سہ ماہی میں ایپل کا منافع 49 ارب سے 51 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اپیل نے 24 اپریل کو ڈیجیٹل گھڑی عوام کی فروخت کے لیے پیش کی تھی

تیسری سہ ماہی کے دوران بھی آئی پیڈ کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا لیکن ٹم کک نے ایپل کی گھڑی کے بارے میں بتایا کہ’یہ زبردست آغاز‘ تھا۔

ایپل کے سربراہ نے گذشتہ سال کہا تھا کہ وہ معلومات افشا ہونے کے پیشِ نظر گھڑی کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ایپل نے 24 اپریل کو ڈیجیٹل گھڑی عوام کی فروخت کے لیے پیش کی تھی۔

ایپل کا کہنا ہے کہ سال کے پہلے نو ماہ کے دوران گھڑی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن آئی فون اور آئی پیڈ کی لانچنگ سے ہونے والی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔

ایپل نے چین، ہانگ کانگ اور تائیوان کی مارکیٹس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں