مصر میں خاتون پولیس افسر کے ہاتھوں مرد کی پٹائی

تصویر کے کاپی رائٹ VEDIO7
Image caption یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون پولیس افسر نے نامعلوم شخص کی پٹائی کیوں کی تھی؟

سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس وقت مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک سینما کے احاطے میں بنائی گئی ایک ویڈیو کی جہاں تعریف کی جا رہی ہے وہیں اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک خاتون پولیس افسر ایک مرد کی پٹائی کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ویڈیو میں خاتون پولیس افسر پیلے رنگ کی شرٹ میں ملبوس ایک شخص کو سینما کی لابی میں گھسیٹ رہی ہیں۔ وہ اس نامعلوم شخص پر غصے سے چلا رہی ہیں، انھیں تھپڑ مارتی ہیں اور برقی ڈنڈے سے ان کی پٹائی کرتی ہیں۔

یہ ویڈیو کلپ جس کا دورانیہ ایک منٹ ہے کو الیوم السبی نامی اخبار نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا ہے۔اور اب تک اسے دس لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔

اس ویڈیو کا عنوان ہے ’سینما میٹرو پر خاتون پولیس کرنل نے ہراساں کرنے والے کو سبق سکھایا‘

اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ اس شخص نے کیا قصور کیا تھا تاہم واقعے کے بعد پولیس افسر جن کا نام نشوا محمد بتایا گیا ہے نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے ویڈیو میں موجود شخص اور ان کی بیوی کے درمیان جھگڑے پر مداخلت کی تھی۔

جو بھی وجوہات تھیں اس ویڈیو نے جلد ہی ہراساں کیے جانے کی ایک مثال کی حیثیت سے جگہ بنا لی۔ ساتھ ہی ساتھ اس پر سوشل میڈیا میں مختلف طرح کا ردِ عمل سامنے آنے لگا۔

اگر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی بات کی جائے تو وہاں خاتون پولیس افسر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیش ٹیگ بھی دکھائی دیا۔ جہاں سے ایک دن میں 2000 ٹوئٹس کی گئیں۔

نور صارف کے نام سے ٹوئٹر پر ایک خاتون نے لکھا کہ پولیس افسر نے وہی کیا جو’ ہم (خواتین) کرنا چاہتی ہیں، انھوں نے قبیح آدمیوں کی بے عزتی کرنے کے لیے ہمارے اند موجود دبی ہوئی اس خواہش کو پورا کیا ہے۔‘

لیکن ہر ردعمل میں ایسے جذبات کا اظہار نہیں کیا گیا اور ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے خاتون پولیس افسر کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

اسامہ صابر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ کرنل ناشوا کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غنڈہ گردی اور بیوقوفی پر مبنی یہ اقدامات۔۔۔ جو غیر قانونی بھی ہیں۔۔۔۔ ایسے اقدامات ہیں جن الٹا اثر ہو گا۔‘

اس ویڈیو پر تبصرہ کرنے والوں میں بہت سے ایسے بھی تھے جنھوں نے کہا کہ یہ پولیس افسر کی صنف تھی جس کی وجہ سے اس ویڈیو نے توجہ حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر میں ہر دس میں سے نو خواتین کو جنسی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، رپورٹ

فیس بک پیج پر محمد نعیم نے لکھا کہ وہ لوگ جو عورت کے ہاتھوں مرد کی پٹائی پر نالاں ہیں، یا اس پر کہ انھوں نے مرد کو برقی ڈنڈے سے مارا، وہ شاید اس لیے بھی ناراض ہیں کہ ایسا ایک عورت نے کیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ اگر ایسا کوئی مرد پولیس افسر کرتا جسے کوئی گینگ ہراساں کرتا اور وہ جواب میں یہ سب کرتا تو اس کی مردانگی کی تعریف کی جاتی۔

خیال رہے کہ مصر میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات ایک بڑا مسئلہ ہیں اور اقوامِ متحدہ کی 2013 میں کی جانے والی تحقیق میں اسے مقامی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ہر دس میں سے نو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

گذشتہ برس بی بی سی ٹرینڈنگ میں ایک ویڈیو ایسی بھی سامنے آئی تھی جس میں التحریر سکوائر پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔ ایسے ہی لاتعداد واقعات سوشل نیٹ ورکس پر ویڈیوز کی صورت میں موجود ہیں۔

خواتین کو ہراساں کیے جانے کے اقدامات کے خلاف حالیہ برسوں میں بہت سی مہمات بھی چلائی گئی ہیں۔ ان میں حکومت سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ ان واقعات کے خلاف ایکشن لیں اور جنسی طور پر حملہ کیے جانے کو جرم قرار دیا جائے۔

اسی بارے میں