پاکستان میں شہری اب جاسوسی کا ’نیا ہدف‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption رپورٹ میں پہلی مرتبہ خفیہ دستاویزات کا بھی انکشاف کیا ہے جس کے مطابق 2013 میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے وسیع پیمانے پر جاسوسی کے نظام کے ذریعے زیر سمندر بین الاقوامی کیبلز کی جنوبی پاکستان میں پہنچنے والے مقامات پر نصب کرنے کی کوشش کی تھی

حقوق انسانی کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم ’پرائیویسی انٹرنیشنل‘نے پاکستان سے متعلق اپنی ایک تازہ رپورٹ میں خفیہ اداروں اور فوج کی جانب سے عام شہریوں کے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی جاسوسی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

’ٹپنگ دی سکیلز (توازن خراب کرنا)، سکیورٹی اینڈ سرویلنس‘ نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ملک کے اندر اور باہر دہشت گردی اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری طویل تنازعے میں ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اس جاسوسی کو ضروری قرار دیتی ہے۔‘

تاہم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ’یہ جاسوسی اب مخصوص ہدف کی ہونے کی بجائے عام شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کی جا رہی ہے۔‘

’حالیہ برسوں میں بین الاقوامی امداد کی وجہ سے دفاعی بجٹ کافی بڑھ گیا ہے اور ساتھ میں فوج کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی بڑھی ہے۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں حملوں کی وجہ سے عوامی سطح پر قومی ڈیٹا بیس اور لازمی سم کی تصدیق جیسے اقدامات کے ذریعے شہریوں کی نگرانی کے لیے حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

تنظیم کا الزام ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے مواصلات کی جاسوسی کے اختیارات کا سیاستدانوں اور سپریم کورٹ کے ججوں کی نگرانی کرکے غلط استعمال کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی نگرانی اور سینسرشپ کے ذریعے صحافیوں، وکلا اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو بھی ٹارگٹ کیا ہے۔

رپورٹ میں مبہم قوانین کا حقوق انسانی کے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ موازنہ بھی کیا ہے۔ اس میں پاکستان نے جن بین الاقوامی جاسوسی کی کارروائیوں میں شرکت کی ہے ان کا بھی ذکر ہے۔ ان میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور برطانیہ کے کمیونیکیشن ہیڈکواٹرز کے اشتراک سے کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں پہلی مرتبہ خفیہ دستاویزات کا بھی انکشاف کیا ہے جس کے مطابق 2013 میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے وسیع پیمانے پر جاسوسی کے نظام کے ذریعے زیر سمندر بین الاقوامی کیبلز کی جنوبی پاکستان میں پہنچنے والے مقامات پر نصب کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان مقامات پر 660 گیگا بائٹ فی سیکنڈ ڈیٹا پر نظر رکھ سکتا تھا جو پاکستان کی جاسوسی کی صلاحیت میں قابل ذکر اضافہ تھا۔

’پرائیویسی انٹرنیشنل‘نے تحقیقات اور تجزیے کے ذریعے 2005 سے جاسوسی کے نظام نصب ہیں اور اس کے حصول میں اس کی الکاٹل، ایرکسن، ہواوی، ایس ایس ایٹ اور اوٹمکو نے مدد دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کی سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کو پیش کی جانے والی ایک تجویز میں اس نے 2013 میں آئی ایس آئی کی جانب سے آئی پی مانیٹرنگ نظام کے مناسب ہونے، اس کی قانونی حیثیت اور ضرورت سے متعلق تحقیقات کا مشورہ دیا ہے

رپورٹ میں ایسی تجاویز بھی دی ہیں جو ’پرائیویسی انٹرنیشنل‘ کے مطابق اسے موجودہ جاسوسی کے نظام سے ایسے نظام کی جانب لے جا سکتا ہے جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتے ہوں۔

انٹرنیٹ اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے پاکستان چیپٹر کے لیے کام کرنے والے فرحان حسین کا کہنا تھا ’جن صلاحیتوں کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا اور جتنے گیاگا بائٹس ڈیٹا جمع کر کے پراسیس کیا جا رہا ہے تو یہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی جیسی صلاحیتیں ہیں اور آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس نظام کو تعمیر کرنے میں کتنا پیسہ ٹیکس دینے والوں کا خرچ ہوا ہو گا۔‘

پاکستان کی سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کو پیش کی جانے والی ایک تجویز میں اس نے 2013 میں آئی ایس آئی کی جانب سے آئی پی مانیٹرنگ نظام کے مناسب ہونے، اس کی قانونی حیثیت اور ضرورت سے متعلق تحقیقات کا مشورہ دیا ہے۔

اس نے امریکی این ایس اے کی جانب سے پاکستان کے مواصلاتی نیٹ ورکس کی جاسوسی کی قانونی حیثیت اور پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کی صورتحال کے بارے میں بتانے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیرملکی حکومتوں اور برآمدات کے کنٹرول کے اداروں سے تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی دیتے وقت حقوق انسانی کی شرائط کو معاہدے میں شامل کریں اور سال 2000 سے پاکستانی سکیورٹی امداد کا جائزہ لیں کہ کہیں یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا سبب تو نہیں بنی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کو اس سال جون میں بتایاگیا کہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے گذشتہ چار ماہ کے دوران 25 ہزار سے زائد ٹیلیفون کالیں ٹیپ کی گئیں۔

تاہم عدالت کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں نہ تو ان کالز کو ٹیپ کرنے کی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ جن کی ٹیلیفون کالیں ٹیپ کی گئیں وہ کون لوگ ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو خفیہ اداروں کی طرف سے متعدد افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تھی۔

اس رپورٹ اور اس سے قبل اس قسم کی دیگر رپورٹوں پر حکومت پاکستان نے کم کی لب کشائی کی ہے۔

اسی بارے میں