اصلاحات کی منظوری، بیل آؤٹ پیکج پر مذاکرات کا آغاز ممکن

Image caption یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہو گیا جب پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے

یونان نے بیل آؤٹ پیکج کی جانب ایک اور قدم اس وقت بڑھایا جب اس کی پارلیمنٹ نے اصلاحات کے دوسرے مرحلے کی منظوری دی۔

پارلیمنٹ کی جانب سے اصلاحات کی منظوری کے بعد یورپی یونین سے 86 ارب یوروز کے بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔

جن اصلاحات کی منظوری دی گئی ہے ان میں بینکاری اور عدالتی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینا شامل ہے۔

جس وقت پارلیمنٹ ان اصلاحات پر ووٹنگ کر رہی تھی اس وقت پارلیمنٹ کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد ان اصلاحات کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہو گیا جب پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے۔

اس ووٹنگ کے دوران حکمراں جماعت میں بغاوت کا خدشہ تھا لیکن یونان کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے باآسانی ان اصلاحات کے حق میں حمایت حاصل کر لی۔

ان اصلاحات کے حق میں 230 ووٹ جبکہ 63 ووٹ مخالفت میں اور پانچ نے ووٹ نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جن اصلاحات کی منظوری دی گئی ہے ان میں بینکاری اور عدالتی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینا شامل ہے

جن ارکان پارلیمنٹ نے ان اصلاحات کے خلاف ووٹ دیا ان میں 31 ارکان حکمراں جماعت کے ہیں۔ تاہم یہ تعداد پچھلے ہفتے ہونے والے ووٹ سے کم ہے۔

یونان کے وزیر اعظم نے ووٹ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونان پر لگائی جانے والی شرائط سے خوش نہیں ہیں۔

’ہم نے ایک مشکل راستہ اختیار کیا تاکہ ہم اس سے بھی زیادہ سخت شرائط سے بچ سکیں۔‘

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے اصلاحات کے پہلے دور کی منظوری پارلیمنٹ نے دی تھی۔

یونانی پارلیمان کی جانب سے منظور کی جانے والی شرائط میں ٹیکسوں اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ شامل تھیں۔

یونان کی پارلیمان میں پیش کی جانے والی قرار داد کے حق میں 229 اور مخالفت میں 64 ووٹ ڈالے گئے جبکہ چھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اسی بارے میں