’ایران میں پھانسیوں کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption ایران میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے خلاف موجود قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سزائے موت ملی

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایران میں پھانسی کی شرح میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق ایران میں رواں سال جنوری سے لے کر 15 جولائی کی تک 694 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد وشمار سے تقریباً تین گنّا زیادہ ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مصدقہ رپورٹس کے مطابق ایران میں سنہ 2014 میں 743 افراد کو پھانسی دی گئی۔

تنظیم نے کہا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے آزادانہ اور غیر جانبدار نہیں تھے۔

ایمنیسٹی کے مطابق ایران میں چلنے والے مقدمات پر کئی سوالات ہیں۔ قیدیوں کو اکثر وکیل تک رسائی نہیں دی جاتی اور اپیل، معافی یا رعایت حاصل کرنے کا طریقہ کار بھی بہت ناموزوں ہوتا ہے۔

خوف کی فضا

15 جولائی 2015 کو ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ رواں سال ایران میں 246 افراد کو عدالتی حکم کے بعد پھانسی دی گئی تاہم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ انھیں اس کے علاوہ مزید 448 افراد کو پھانسی دیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران میں ایک دن میں اوسطاً تین افراد کو پھانسی دی گئی۔

سنہ 2014 میں حکام نے 289 افراد کو پھانسی دے جانے کی تصدیق کی تھی تاہم ایمنیسٹی کو اطلاعات یہ موصول ہوئی تھیں کہ اصل میں یہ تعداد کم ازکم 743 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنیٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مستند رپورٹس کے مطابق سنہ 2014 میں 743 افراد کو پھانسی دی گئی۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نائب ڈائٹریکٹر باؤمیدوہا کا کہنا ہے کہ’ایران میں سال کے پہلے حصے میں حیرت انگیز طور پر ہونے والی یہ پھانسیاں ایک بری تصویر پیش کرتی ہیں کہ کیسے ملکی مشینری پہلے سے سوچ سمجھ کر عدالت کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو پھانسی دی گئی ان میں ایران میں موجود نسلی اور مذہبی اقلیتیں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ موت کی سزا کا استعمال ہمیشہ سے ہی نفرت انگیز رہا ہے لیکن ایران میں وحشیانہ طور پر مقدمات غیر منصفانہ انداز میں چلائے جاتے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں پھانسی دیے جانے کی شرح میں اضافے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا تاہم رواں سال زیادہ تر ایسے قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا جن پر منشیات سے متعلق مقدمات تھے۔

ایران میں منشیات کے خلاف موجود قوانین کے تحت ایسے افراد کو پھانسی دے دی جاتی ہے جو پانچ کلوگرام تک وزن کی حامل ایسی نشہ آور ادویات جو افیون سے بنی ہوں یا پھر جن میں 30 گرام سے زائد کوکین شامل ہوں، کی سمگلنگ میں ملوث ہوں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بہت ہی سنجیدہ نوعیت کے جرائم کے علاوہ کسی مجرم کو موت کی سزا دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

باؤمیدوہا کہتے ہیں کہ کئی سال تک ایران نشہ آور ادویات کی سمگلنک کی روک تھام کے لیے سزائے موت کو استعمال کرتا رہا تاہم اب تک ان کے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں کہ یہ اس جرم کو روکنے کے لیے کتنا موثر رہا۔

پھانسی کی سزا پانے والوں میں کرد جماعت کے سیاسی لیڈر اور سنّی مسلمان بھی شامل ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایران میں ہزاروں قیدی سزائے موت پر عمل درآمد کے منتظر ہیں اور پھانسی دیے جانے والے افراد کو چند گھنٹے پہلے ہی بتایا جاتا ہے کہ انھیں تختہ دار پر چڑھا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں