ترکی کا دولتِ اسلامیہ کو شام میں نشانہ بناتے رہنے کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ فضائی بمباری سرحدی گاؤں ہاور میں کی گئی

ترک جنگی طیاروں کے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں شدت پسند تنظیم کو نشانہ بناتا رہے گا۔

ادھر ترک صدر رجب طیب اردوگان نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے ملک کے جنوبی علاقے میں واقع فضائی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انکرلک نامی فضائی اڈے کو معاہدے کے تحت مخصوص شرائط کے تحت ہی استعمال کیا جا سکے گا۔

ترک وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف سولہ طیاروں نے جمعے کو دولتِ اسلامیہ کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں دو کمانڈ پوسٹس اور شدت پسندوں کے جمع ہونے کا ایک مقام شامل ہے۔

سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ فضائی بمباری سرحدی گاؤں ہاور میں کی گئی اور اس دوران شام کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

وزیرِ اعظم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا فیصلہ جمعرات کو سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا اور اس کارروائی میں اہداف ’مکمل طور پر تباہ ہوئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام کی سرحد کے قریب واقع اس ایئربیس کے استعمال سے ’دولت اسلامیہ‘ کے مرکز رقہ سے فاصلہ انتہائی کم ہوجائے گا

احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ’یہ ایک جاری عمل ہے۔ یہ ایک دن یا کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہے۔ ترکی کو دھمکانے کی کسی بھی کوشش کا سخت ترین طریقے سے جواب دیا جائے گا۔‘

ترک وزیراِعظم نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ترکی شام میں اپنی زمینی فوج بھی بھیج سکتا ہے۔

خیال رہے کہ شام اور ترکی کی سرحد پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور ترک فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ترک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

ادھر ترک پولیس نے جمعے کی صبح ملک کے 13 صوبوں میں کیے جانے والے آپریشن میں دولتِ اسلامیہ اور کرد علیحدگی پسندوں کے مشتبہ حامیوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا ہے۔

اس کارروائی میں پانچ ہزار پولیس اہلکار شریک ہوئے اور گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد تین سو کے لگ بھگ 250 بتائی جا رہی ہے۔

ان کارروائیوں کے دوران صرف استنبول میں ہی 26 علاقوں میں 140 مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ پولیس نے انقرہ اور شامی سرحد کے نزدیکی شہر ازمیر میں بھی کارروائیاں کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کی حکومت نے سوروچ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کا الزام شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ پر عائد کیا تھا

گرفتار ہونے والوں میں پی کے کے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم پر بدھ کو دو ترک پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

ترکی نے شام میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے ترک اڈے کے استعمال کا معاہدہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔

انجرلیک ایئر بیس کے استعمال سے امریکی فوجی کی دولت اسلامیہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، ایک امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے سے اسے ’کھیل تبدیل کرنے والا قدم‘ قرار دیا ہے۔

ماضی میں یہ ایئربیس سابق عراقی صدر صدام کے خلاف کارروائیوں میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔

شام کی سرحد کے قریب واقع امریکی ایئربیس سے دولت اسلامیہ کے مرکز رقہ سے فاصلہ انتہائی کم ہوجائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے تاحال اس معاہدے پر تبصرہ نہیں کیا تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ صدر اوباما اور صدر اردوغان نے گفتگو کے دوران ’تعاون بڑھانے‘ پر اتفاق کیا ہے۔

اس معاہدے سے دولت اسلامیہ کے خلاف مہم میں ترکی کی شرکت بڑھ گئی ہے۔

.

اسی بارے میں