’شام اور عراق میں بمباری ملکی سالمیت کے دفاع میں کر رہے ہیں‘

Image caption ترکی کے جنگی جہازوں نے جمعہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا

ترکی کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ترک فضائیہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری ملکی سالمیت کے دفاع کے لیےکر رہی ہیں۔

وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے مزید کہا کہ پی کے کے کہلانے والی تنظیم اور دولت اسلامیہ کے 590 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں گذشتہ ہفتے ترکی کے ایک قصبے سوروچ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ اس دھماکے میں 32 افراد مارے گئے تھے جبکہ اس کا الزام دولت اسلامیہ پر لگایا گیا ہے۔

اس سے قبل ترکی کے جنگی جہازوں نے دوسرے روز بھی شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ترکی کے جنگی جہازوں نے جمعہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

اس سے قبل ترکی پر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فضائیہ کی کارروائی 2013 میں کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی کارروائی ہے۔

یاد رہے کہ پی کے کے کہلانے والی تنظیم کردوں کے لیے خود مختار ریاست کے لیے ترکی کے خلاف کئی دپائیوں سے لڑ رہی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو ترک جنگی طیاروں کے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں شدت پسند تنظیم کو نشانہ بناتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ فضائی بمباری سرحدی گاؤں ہاور میں کی گئی

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے ملک کے جنوبی علاقے میں واقع فضائی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انکرلک نامی فضائی اڈے کو معاہدے کے تحت مخصوص شرائط کے تحت ہی استعمال کیا جا سکے گا۔

ترک وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف 16 طیاروں نے جمعے کو دولتِ اسلامیہ کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں دو کمانڈ پوسٹس اور شدت پسندوں کے جمع ہونے کا ایک مقام شامل ہے۔

سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ فضائی بمباری سرحدی گاؤں ہاور میں کی گئی اور اس دوران شام کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

وزیرِ اعظم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا فیصلہ جمعرات کو سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا اور اس کارروائی میں اہداف ’مکمل طور پر تباہ ہوئے۔‘

خیال رہے کہ شام اور ترکی کی سرحد پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور ترک فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک ترک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں