ترکی اور امریکہ کا شام میں ’بفر زون‘ کے قیام کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ترکی سے مل کر شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شمالی شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے اور کمزور اور تباہ کرنے اور ایک ایسا علاقہ بنانے کی کوشش ہے جہاں داعش کے اثرات نہ ہوں۔‘

ترکی اور امریکہ کی یہ بات چیت دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے بارے میں ترکی کی پالیسی میں حالیہ دنوں میں آنے والی تبدیلی کے بعد ہو رہی ہے۔

ترکی نے جو ابتدائی طور پر شام میں اس شدت پسند تنظیم کے خلاف فوجی کارروائی سے گریزاں تھا، اب نہ صرف امریکہ کو حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ خود بھی شام میں دولتِ اسلامیہ اور شمالی عراق میں پی کے کے کی پناہ گاہوں کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے۔

تاہم ان حملوں کے بعد شام میں کرد پیش مرگاہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ترکی نے سرحد سے متصل علاقوں میں انھیں بھی نشانہ بنایا ہے۔

ترکی نے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں کرد افواج اس کے حالیہ فوجی اہداف میں شامل نہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا بھی کہنا ہے کہ ترکی امریکہ کی مرضی سے عراق میں کرد جنگجوؤں پر فضائی حملے نہیں کر رہا۔

شمالی شام میں بفر زون

امریکہ اور ترکی کی جانب سے شام کے شمالی علاقے میں ’بفرزون‘ کے قیام کا منصوبہ امریکی ذرائع ابلاغ کی نامعلوم حکام سے بات چیت کے دوران سامنے آیا۔

امریکی حکام کے مطابق ’دولتِ اسلامیہ سے پاک علاقہ‘ شام اور ترکی کی سرحد پر استحکام کو یقینی بنائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جو اطلاعات کے مطابق حتمی شکل اختیار کر چکا ہے، دریائے فرات کے مغرب میں 68 میل یا 109 کلومیٹر کے علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا جائے گا۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اس قسم کا منصوبہ شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی زیرِ قیادت فضائی کارروائیوں کے امکانات بڑھا دے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں شام کے صدر بشار الاسد نے بھی تسلیم کیا ہے کہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں ملک کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے شامی فوج کو بعض علاقوں میں پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک کی تقریباً نصف آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

ادھر ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کرد علیحدگی پسند تنظیم’پی کے کے‘ کے خلاف فضائی حملے ’علاقائی صورتحال تبدیل‘ کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے کرد جنگجوؤں سے تعلقات کشیدہ ہونے کے بھی امکانات ہیں کیونکہ شمالی شام کے زیادہ تر علاقے کا کنٹرول ان کے پاس ہے اور وہ شام میں ترکی کی فوج کشی کے مخالف ہیں۔

ادھر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور علیحدگی پسند کرد تنظیم ’پی کے کے‘ کے خلاف جاری عسکری آپریشن کے جائزے کے لیے ترکی کی درخواست پر منگل کو نیٹو ممالک کے سفیروں کا اجلاس بھی برسلز میں منعقد ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فضائی حملے علاقائی صورتحال تبدیل کر سکتے ہیں

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹوٹنبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی نے نیٹو کے آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت یہ اجلاس طلب کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی رکن ملک اپنی علاقائی حدود کو خطرے کے پیشِ نظر تمام رکن ممالک کا اجلاس طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ترکی کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ترک فضائیہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری ملکی سالمیت کے دفاع کے لیےکر رہی ہیں۔

ترکی کے جنگی جہازوں نے جمعہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل ترکی پر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فضائیہ کی کارروائی 2013 میں کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی کارروائی ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے بعد ترک حکومت اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ جنگ بندی ختم ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ پی کے کے کہلانے والی تنظیم کردوں کے لیے خود مختار ریاست کے لیے ترکی کے خلاف کئی دپائیوں سے لڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں