بحرین: بم حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک، چھ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ دھماکہ حالیہ دنوں میں شیعہ اکثریتی دیہات میں پولیس پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہے

بحرین کے وزارت داخلہ کے مطابق ایک ’دہشت گرد بم حملے‘ میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

سِترہ کے جزیرے پر ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں دیگر چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک شدید زخمی ہے۔

واضع رہے کہ سنہ 2011 سے بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی کی جانب سے ملک کے سنی حکمرانوں کے خلاف اور جمہوری اصلاحات کے حق میں چلائی جانے والی مہم کی وجہ سے بحرین میں حالات کشیدہ ہیں۔

یہ حالیہ حملہ بحرینی حکام کی جانب سے کیے جانے والے اُس دعوے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سیکورٹی حکام نے ملک میں اسلحہ سمگل کرنے کے منصوبے جس میں ایران بھی ملوث تھا کو ناکام بنادیا ہے۔

حکام کے مطابق دو بحرینی شہریوں کوگرفتار کیا گیا تھا جنھوں نے ایرانی سہولتکاروں سے گولہ بارود اور جدید اسلحہ لینے کا اعتراف کیا تھا۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی بحرین کی حکومت ایران پر یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ ملک میں شیعہ عسکریت پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے بحرین نے ایران سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا تھا جس کی وجہ اس نے ایرانی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات بتائی تھی۔

سِترہ میں ہونے والا یہ دھماکہ حالیہ دنوں میں شیعہ اکثریتی دیہات میں پولیس پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس نے سِترہ جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کا یہ دیرنہ موقف رہا ہے کہ اگرچہ وہ بحرین کی عوام کے جمہوری اصلاحات کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے لیکن وہ ملک میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں