جنگی جرائم کے الزام میں معمر قذافی کے بیٹے کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا کی عدالت نے سیف الاسلام اور آٹھ دیگر افراد کو موت کی سزا سنائی۔

اقوامِ متحدہ اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام سمیت نو افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

لیبیا کی ایک عدالت نے منگل کو سیف الاسلام کو جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔

انھیں یہ سزا سنہ 2011 میں لیبیا میں انقلاب کے دوران کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے دی گئی ہے۔

منگل کے روز لیبیا کی عدالت نے سیف الاسلام اور آٹھ دیگر افراد کو موت کی سزا سنائی۔

جب انھیں سزائے موت سنائی گئی تو اس موقع پر وہ خود عدالت میں موجود نہیں تھے تاہم ویڈیو لنک پر عدالتی کارروائی میں شریک تھے۔

اس وقت زینتان سے تعلق رکھنے والے ایک سابق باغی گروہ نے سیف الاسلام کو اغوا کر رکھا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام پر چلائے جانے والے مقدمے کی کارروائی قانون و انصاف کے عالمی معیار کے مطابق نہیں تھی۔

جرائم کی عالمی عدالت میں سیف الاسلام کے وکیل نے اس فیصلے کو غیر قانونی اور داغدار قرار دیا ہے۔

سیف کے ساتھ جن دیگر آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی گئی ان میں ملک کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ سربراہ عبداللہ السینوسی اور سابق وزیراعظم بغدادی المحمودی بھی شامل ہیں۔

طرابلس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سمپسن کے مطابق سزائے موت پانے والے ان تمام افراد کو اپیل کا حق دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سیف کے علاوہ معمر قذافی کے ایک اور بیٹے سعدی بھی جیل میں ہیں۔

انھوں نے گذشتہ سال لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں جیل سے معافی کی اپیل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس نشر شدہ فوٹیج میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں لیبیا کی سکیورٹی اور استحکام میں خلل ڈالنے کے لیے لیبیا کی عوام سے معافی کا خواستگار ہوں۔‘

کرنل قذافی کے سات بیٹوں میں سے 40 سالہ سعدی کو عام طور پر اطالوی فٹبال میں ان کے مختصر دور اور پلے بوائے طرز زندگی کے لیے جانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں