’کسی بھی فرد کو تاحیات صدر نہیں رہنا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ کسی امریکی صدر کا ایتھوپیا کا پہلا دورہ ہے

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دورۂ افریقہ کا اختتام اس براعظم کے سیاسی رہنماؤں کو اس تنبیہ کے ساتھ کیا ہے کہ جب تک وہ اپنی مدتِ اقتدار کے خاتمے پر حکومت سے الگ نہیں ہوں گے ان کے ملک آگے نہیں بڑھ سکتے۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی فرد کو تاحیات صدر نہیں رہنا چاہیے۔‘

انھوں نے یہ باتیں مشرقی افریقہ کے دورے کے آخری دن منگل کو ایتھیوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں افریقی یونین سے خطاب کے دوران کہیں۔

اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے 54 ممالک پر مشتمل اس تنظیم سے خطاب کیا۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگ کیوں اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ مالدار بھی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افریقی ممالک کے سربراہان کو اپنے آئینوں کا احترام کرنا چاہیے اور وقت آنے پر اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے ایتھوپیا کی حکومت کو ’جمہوری طور پر منتخب حکومت‘ کے طور پر بیان کیا

برونڈی کے صدر کی جانب سے تیسری مرتبہ یہ عہدہ سنبھالنے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’کبھی آپ یہ سنتے ہیں کہ سربراہ کہتا ہے کہ ہم ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو اس ملک کو متحد رکھ سکتی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو وہ بطور رہنما اپنی قوم کی تعمیر میں ناکام رہے ہیں۔‘

پیر کو صدر اوباما نے اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ’نمایاں شراکت دار‘ کے طور پر ایتھوپیا کی تعریف کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایتھوپیا نے القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب کو صومالیہ میں کمزور کیا ہے۔

بعض انسانی حقوق کے گروہوں نے صدر اوباما کے دورۂ ایتھیوپیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک ایسی حکومت کو جواز ملتا ہے جس پر اپنے ناقدین اور صحافیوں کو جیل میں بند کرنے کے الزامات ہیں۔

صدر اوباما کینیا کے اپنے دو روزہ دورے کے بعد ایتھوپیا پہنچے تھے۔ کینیا میں انھوں نے تجارت اور سکیورٹی پر بات کی اور وسیع تر انسانی حقوق دینے پر زور دیا اور ساتھ ہی بدعنوانی کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔

اسی بارے میں