’کردوں کے ساتھ جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ hurriyet.com.tr
Image caption ابتدائی طور پر شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی سے گریزاں تھا

ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ کرد جنگجوؤں کی جانب سے حملوں کے پیشِ نظر ترکوں اور کردوں کے درمیان جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی۔

ترک صدر کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دولتِ اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی فوجی مہم کے حوالے سے نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوے نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ نیٹو اپنے اتحادی، ترکی کی جانب سے اپنی سرحدوں پر عدم استحکام سے نمٹنے کی کوششوں میں مکمل طور پر اس کے ساتھ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

نیٹو میں شامل 28 ممالک کے سفیر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی فوجی مہم پر بات چیت کے لیےمنگل کو برسلز میں اکھٹے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیکٹری جنرل سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ نیٹو صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے

ابتدائی طور پر شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی سے گریزاں تھا مگر ترکی نے اب نہ صرف امریکہ کو حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ خود بھی شام میں دولتِ اسلامیہ اور شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کی پناہ گاہوں کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے۔

تاہم ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام میں زمینی فوج بھجوانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹوٹنبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی نے نیٹو کے آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت یہ اجلاس طلب کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی رکن ملک اپنی علاقائی حدود کو خطرے کے پیشِ نظر تمام رکن ممالک کا اجلاس طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔

نیٹو کی تاریخ میں یہ پانچواں موقع ہے جب کسی رکن ملک نے ایسی درخواست کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کہتے ہیں کہ اس سے نیٹو کہ اتحادیوں کو شامی جنگ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنے کی تحریک ملے گی۔

شمالی شام میں بفر زون

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ مل کر شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بی بی سی کو بتایا: ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شمالی شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے اور کمزور اور تباہ کرنے اور ایک ایسا علاقہ بنانے کی کوشش ہے جہاں داعش کے اثرات نہ ہوں۔‘

ترکی اور امریکہ کی یہ بات چیت دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے بارے میں ترکی کی پالیسی میں حالیہ دنوں آنے والی تبدیلی کے بعد ہو رہی ہے۔

تاہم ان حملوں کے بعد شام میں کرد پیش مرگا نے الزام عائد کیا ہے کہ ترکی نے سرحد سے متصل علاقوں میں انھیں بھی نشانہ بنایا ہے۔

ترکی نے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں کرد افواج اس کے حالیہ فوجی اہداف میں شامل نہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا بھی کہنا ہے کہ ترکی امریکہ کی مرضی سے عراق میں کرد جنگجوؤں پر فضائی حملے نہیں کر رہا۔

امریکہ اور ترکی کی جانب سے شام کے شمالی علاقے میں ’بفرزون‘ کے قیام کا منصوبہ امریکی ذرائع ابلاغ کی نامعلوم حکام سے بات چیت کے دوران سامنے آیا۔

امریکی حکام کے مطابق ’دولتِ اسلامیہ سے پاک علاقہ‘ شام اور ترکی کی سرحد پر استحکام کو یقینی بنائے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جو اطلاعات کے مطابق حتمی شکل اختیار کر چکا ہے، دریائے فرات کے مغرب میں 68 میل یا 109 کلومیٹر کے علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا جائے گا۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اس قسم کا منصوبہ شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی زیرِ قیادت فضائی کارروائیوں کے امکانات بڑھا دے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں شام کے صدر بشار الاسد نے بھی تسلیم کیا ہے کہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں ملک کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے شامی فوج کو بعض علاقوں میں پسپائی ملی ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک کی تقریباً نصف آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

بدلتی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فضائی حملے علاقائی صورتحال تبدیل کر سکتے ہیں

ادھر ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کرد علیحدگی پسند تنظیم’پی کے کے‘ کے خلاف فضائی حملے ’علاقائی صورتحال تبدیل‘ کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے کرد جنگجوؤں سے تعلقات کشیدہ ہونے کے بھی امکانات ہیں کیونکہ شمالی شام کے زیادہ تر علاقے کا کنٹرول ان کے پاس ہے اور وہ شام میں ترکی کی فوج کشی کے مخالف ہیں۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹوٹنبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی نے نیٹو کے آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت یہ اجلاس طلب کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی رکن ملک اپنی علاقائی حدود کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر تمام رکن ممالک کا اجلاس طلب کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ترکی کے جنگی جہازوں نے جمعہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل ترکی پر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فضائیہ کی کارروائی 2013 میں کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی کارروائی ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے بعد ترک حکومت اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ جنگ بندی ختم ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ پی کے کے کہلانے والی تنظیم کردوں کے لیے خود مختار ریاست کے لیے ترکی کے خلاف کئی دپائیوں سے لڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں