’اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل اور فسلطین کے درمیان تنازع تقریباً 50 روز تک جاری رہنے کے بعد عارضی صلح پر ختم ہوا تھا

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس بات کے ’ٹھوس شواہد‘ موجود ہیں کہ اسرائیل گذشتہ برس حماس کے ہاتھوں اپنے ایک سپاہی کے پکڑے جانے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی روپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ اگست میں لیفٹیننٹ ہدر گولڈن کے پکڑے جانے اور پھر میں ہلاکت کی خبر کے بعد رفاہ پر بمباری میں 135 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ’اسرائیل کی انتہائی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔‘

دوسری جانب اسرائیل نے اس روپورٹ کو ’بنیادی طور پر غلط اور یک طرفہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ تنازع تقریباً 50 روز تک جاری رہنے کے بعد عارضی صلح پر ختم ہوا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فسلطین میں 2،251 افراد جن میں 1،462 عام شہری تھے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل میں 67 فوجی اور چھ عام شہری مارے گئے تھے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کا مقصد جنگجوؤں کی جانب سے راکٹ حملوں کو روکنا اور سرحد کے قریب سرنگ بنانے کے خطرے کو ختم کرنا تھا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس رفاہ میں اسرائیلی اقدامات جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کےمترادف ہیں۔

اس تحقیق میں جدید طریقہ کار جس میں سائے اور دھویں کے تجزیے کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں سے اکھٹے کیے گئے شواہد بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی گولدن کو اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے دوران پکڑا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی گولدن کو اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے دوران قبضے میں لیا گیا تھا

بعد میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے فوجی گولدن کو حماس کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بھاری گولہ بارود کے استعمال کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جسے ’ہنیبل ڈائریکٹو‘ کہا جاتا ہے۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے پر عمل درآمد ’عام شہریوں پر غیر قانونی حملے کے مترادف‘ تھا۔

عالمی تنظیم کے مطابق اس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں 75 بچے بھی شامل تھے۔

عالمی تنظیم کے ڈائریکٹر فلپ لودر کا کہنا ہے کہ ’اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی فوج عام شہریوں کی جانوں کی پروا کیے بغیر اپنے سپاہی کو چھڑانے کے لیے رفاہ کے رہائشی علاقے پر شدید بمباری کرکے جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’اس رپورٹ کے بعد فوری انصاف کی ضرورت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں سینکڑوں تصاویر ، ویڈیوز اور سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر کے ساتھ ساتھ عینی شاہدین سے اکھٹے کیے گیے شواہد بھی شامل ہیں۔ جس سے اسرائیل کی بین الاقوامی انسانی قوانین کی شدید خلاف ورزی کے شواہد ملتے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’اس نے تمام آپریشن بین الاقوامی قوانین کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیے ہیں۔‘

اسرائیل کا مزید کہنا ہے کہ وہ رفاہ میں ہونے والے مبینہ واقعات کا جائزہ لے رہا ہے اور ان کے بارے میں مستقبل میں تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

اسی بارے میں