’بھائی کو دولتِ اسلامیہ چھوڑنے پر آمادہ کرنا چھوڑ دیا‘

انٹرنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد انٹرنٹ پر بے حد سرکردہ ہیں

خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم آخر انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان مسلمانوں کو کیسے انتہا پسند بناتی ہے اور کیسے اپنی جانب مائل کرتی ہے؟

ایک نوجوان برطانوی شہری جن کے بھائی شام جا چکے ہیں انھوں نے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے دولت اسلامیہ کے حامیوں سے رابطے میں رہنے کے بعد اپنے تجربے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ دولت اسلامیہ کسی بھی ایسی ویب سائٹ جو آپ کو وزن کم کرنے کرنے یا ڈپریشن میں آپ کی مدد کرنے میں مدد کرتی ہے کے ذریعے آپ کو اپنی جانب مائل کرتی ہے۔

ساجد( بدلا ہوا نام) نے اپنے بھائی کے لاپتہ ہونے کے ایک مہینے بعد ایک جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولا۔ ان کے بھائی ارشد کے رویے سے کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں، اور نہ ہی کبھی ایسا لگا کہ وہ شام کی جنگ میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن ایک دن وہ اچانک غائب ہو گئے۔

’وہ اپنے بستر پر نہیں تھے، ان کا پاسپورٹ غائب تھا۔ اس کے سکول کو اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اور اس کے لیپ ٹاپ کی ’سرچ ہسٹری‘ میں دولت اسلامیہ سے متعلق مواد کے لنکس ملے۔ اور ایک دن ارشد نے شام سے ساجد کو یہ بتانے کے لیے رابطہ کیا کہ سینکڑوں دیگر برطانوی نوجوانوں کی طرح اس نے بھی دولت اسلامیہ کا جنگجو بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

16 سالہ سکول کے طالب علم ساجد اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے ایک افسانوی عربی نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولا اور دولت اسلامیہ اور شام سے متعلق مواد ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

چند لمحوں کے بعد دولت اسلامیہ کے ایک حامی نے ان کو فالو کرنا شروع کردیا اور بات چیت شروع ہوگئی۔

اس بات چیت کے دو گھنٹوں کے بعد جب ساجد نے دوبارہ ٹوئٹر پر لاگ ان کیا تو انھوں نے دیکھا کہ ان کو پانچ ہزار لوگ فالو کر رہے تھے۔

کئی لوگوں سے ٹوئٹر پر بات ہوئی۔ آخر میں چھ ایسے افراد سے ان کی دوستی ہوگئی جن سے وہ تقریباً روزانہ باتیں کرتے۔

ان میں سے بعض شام میں تھے، اور بعض مغرب میں رہنے والے دولت اسلامیہ کے حامی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولت اسلامیہ میں شریک ہونے کے لیے سینکڑوں برطانوی شام پہنچے ہیں

یہ بات جاننے کے باوجود کہ ساجد اپنے بھائی کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتا، وہ لوگ یہی کہتے کہ وہ دولت اسلامیہ کے حامی ہیں۔

ساجد نے بتایا کہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان حامیوں میں سے کسی نے بھی ’نہ تو شام آنے اور نہ ہی دولت اسلامیہ میں شمولیت کی پیشکش کی‘۔

’یہ میرے لیے کافی تعجب کی بات تھی۔ مجھے امید تھی کہ وہ مجھے شام جانے کا دباؤ ڈالیں گے۔ آج تک کسی نے مجھ سے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے نہیں کہا۔‘

ساجد کا تجربہ اس عام تاثر کے برعکس ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ بچوں کا استحصال کرنے والوں اور دھوکہ دہی کرنے والے آن لائن گروپوں کی طرح اس تلاش میں ہے کہ کس طرح وہ نوجوان مسلمانوں کو اپنی جانب مائل کریں۔ حالانکہ انہیں ٹوئٹر اور میسنجر پر ان کو اس طرح کے پروپیگنڈا کا سامنا تھا کہ عراق میں شیعہ سّنی مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔

ساجد کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ پر دولت اسلامیہ کے جو حامی سرگرم ہیں ان کی بیشتر توجہ شیعہ سنی تنازعے پر مرکوز ہے اور اس کے متعلق وہ لوگوں کو اکساتے بھی ہیں۔

’میں نے اس طرح کی ویڈیو دیکھنی شروع کر دیں اور میں سخت دل ہوتا چلا گیا۔ ایک دن عراق میں سّنیوں کے خلاف مقامی شیعہ افراد کی کارروائیوں کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں نے ایک عراقی فوجی کی پھانسی کی ویڈیو دیکھی اور میرے منہ سے نکلا بہت خوب۔‘

لیکن یہی لمحہ ساجد کی زندگی میں نیا موڑ تھا۔ ان کے دل میں عراق کے شیعہ کے لیے نفرت اور دولت اسلامیہ کے لیے ہمدردی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں اس بات پر تعجب بھی ہوا۔ ’میں نے اپنے ضمیر سے سوال کیا اور مجھے احساس ہوا کہ میں دولت اسلامیہ کی بالکل بھی حمایت نہیں کرتا تھا۔ میں نے یہ ویڈیوز دیکھنی بند کر دیں۔‘

ساجد کو یہ بھی احساس ہوا کہ اپنے بھائی کی طرح وہ بھی انتہا پسند ہو رہے تھے۔

ساجد کا کہنا ہے کہ آخر میں یہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہے کہ آپ دولت اسلامیہ میں شامل کیوں ہوتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں جاری لڑائی پوری دنیا کے لیے تشویش کی وجہ بنی ہوئی ہے

’جب میرا بھائی گیا تھا تو تب میں نے اپنے گھر والوں کی پریشانی کو دیکھا ہے۔ میرے چھوٹے بہن بھائیوں نے کھانے اور سونے سے انکار کردیا۔ تب میں نے سوچا کہ میرے جانے کے بعد بھی ان کا یہی حال ہوگا۔‘

’مجھے نہیں لگتا کہ میرے بھائی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اس کے ایک احمقانہ فیصلے سے کیسے میرے گھر والوں کی زندگی بکھر گئی ہے۔‘

ساجد کے تجربے سے دولت اسلامیہ کی ترکیبوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ساجد ایسے شخص کے طور پر دولت اسلامیہ کے لوگوں سے رابطے میں تھے جن کا بھائی پہلے ہی شام جاچکا تھا۔ وہ ان معصوم لوگوں کی طرح نہیں تھے جن کو دولت اسلامیہ کے بارے میں زیادہ اندازہ نہیں ہے۔

ساجد کا کہنا ہے ’میرے خیال سے انتہا پسند بنانے کے بھی مختلف طریقہ کار اور مراحل ہیں‘۔

’آپ تصور کریں ایک ایسے شخص کا جو یہ سوچ رہا ہے کہ عراقی فوجی قتل کر کے بھی آزاد گھومتے ہیں اور تبھی دولت اسلامیہ آپ کو آ کر بتاتی ہے کہ دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑو اور ہم تمیں بدلہ دلانے میں مدد کریں گے۔ وہ شخص کیسے نہیں راغب ہوگا؟‘

ساجد کے رابطے میں جو لوگ تھے ان میں شام میں موجود دولت اسلامیہ کے دو ایسے جنگجو تھے جو ان کو پیغام بھیجنے والی ایپ ’ کک‘ پر مسلسل ان کو حالات سے آگاہ کرتے تھے۔

دھیرے دھیرے ساجد ایک ’اندر‘ کا آدمی بن گیا جس کو دولت اسلامیہ کے بارے میں بے حد معلومات تھیں اور لوگوں کا اعتماد بھی حاصل تھا۔

ساجد کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ مجھے دولت اسلامیہ کا حامی ہونے کا ڈھونگ بھی کرنے کے ساتھ ساتھ میں لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ میں شامل نہ ہوں۔ ایک بار لندن میں رہنے والی ایک صومالی لڑکی نے مجھے بتایا کہ وہ شام جانا چاہتی ہے۔‘

’میرا جواب تھا یہ بیوقوفی مت کرو۔‘

میرے خیال سے اس نے جواب دیا تھا ’یہ کیا بات ہوئی۔ تم دولت اسلامیہ کی جاسوسی کر رہے ہو کیا؟‘

ساجد کا کہنا ہے کہ وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں وہ یہ بات ٹوئٹر پر عام نہ کر دے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے دو منٹ بعد وہ ٹوئٹ ڈلیٹ یا ضائع کر دیا۔ بعد میں اس لڑکی نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔‘

ساجد کا کہنا ہے کہ اس نے بہت سے لوگوں کو دولت اسلامیہ میں شامل نہ ہونے کے لیے سمجھایا لیکن وہ دولت اسلامیہ کے ’جھوٹے حامی‘ ہونے کے الزام سے تھک گئے تھے۔ بعد میں ٹوئٹر کی جانب سے بہت سے دولت اسلامیہ سے متعلق اکاؤنٹس بند کیے جانے کے بعد آخر میں انہوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر دیا۔

کئی ماہ گزر جانے کے بعد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ان کے چھ جاننے والے مشکل میں پڑے۔

ساجد کا کہنا ہے کہ تین تو عراق یا شام میں ہلاک ہوگئے، دو پر شدت پسندی کا مقدمہ چل رہا ہے، ایک پر برطانیہ میں اور ایک پر امریکہ میں۔ ایک زندہ ہے اور آزاد بھی ہے اور اس نے دولت اسلامیہ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

جس ایک شخص نے دولت اسلامیہ کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے وہ ان کا بھائی ہے جو ابھی بھی شام میں ہے۔

ساجد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کو بہت بدلنا چاہا لیکن جب وہ ارشد کو ایسا کرنے کے لیے بولتے ہیں وہ ان سے رابطہ منقطع کر دیتا ہے انہیں میسنجر پر بلاک کر دیتا ہے۔

اس ڈر سے کہ جو تھوڑا بہت رابطہ ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا، ساجد نے اپنے بھائی کو دولت اسلامیہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش چھوڑ دی ہے۔

اسی بارے میں