اسرائیل میں قیدیوں کو زبردستی خوراک کھلانے کا قانون

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2012 میں فلسطینی قیدیوں کی جانب سے طویل بھوک ہڑتال کے بعد اس قانون کو معتارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کے تحت بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو زبردستی خوراک دی جا سکے گی۔

اس قانون کے تحت کسی بھی قیدی کو زبردستی خوراک کھلانے سے پہلے عدالت سے اجازت لینی پڑے گی۔

واضع رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں بغیر مقدمات کے قید فلسطینی قیدی اکثر بھوک ہڑتال کے ذریعے اسرائیلی پالیسی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں۔

اسرائیل کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زبردستی خوراک کھلانا تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے ساتھ میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کو اس عمل کا حصہ نہ بننے کی تلقین کی ہے۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے یہ قانون 40 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے پاس کیا ہے۔

دوسری جانب ملک کے وزیرِ داخلہ گیلاد اردن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قانون کی ضرورت تھی کیونکہ جیل میں قید دہشت گرد بھوک ہڑتال کو اسرائیلی ریاست کو دھمکانے اور اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

گیلاد اردن کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق سنہ 2012 میں مقدمات کے بغیر حراست میں رکھے گئے فلسطینی قیدیوں کی جانب سے طویل بھوک ہڑتال کے بعد اس قانون کو معتارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس ماہ کے اوائل میں اسرائیل نے ’اسلامک جہاد‘ گروپ سے تعلق رکھنے والے قادر عدنان جو 56 دن سے بھوک ہڑتال پر تھے، کو رہا کیا تھا۔

قادر عدنان نے اس نئے قانون کو اسرائیل کی بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے دیوالیہ پن کا مظہر قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ قادر عدنان کو بغیر کسی مقدمے کے اسرائیل نے ایک سال سے زائد عرصے تک قید میں رکھا تھا اور بھوک ہڑتال کے باعث ان کی طبیت زیادہ خراب ہونے پر انھیں رہا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں