’موٹے مسافر کے ساتھ بٹھانے پر ہرجانے کا دعویٰ‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

ایک آسٹریلوی مسافر نے متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز کو ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جیمز باسوس نامی مسافر کا موقف ہے کہ انھیں ایک بھاری بھرکم شخص کے ہمراہ بیٹھنے کے باعث کمر کی تکلیف ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں متحدہ عرب امارات سے سڈنی تک 14 گھنٹوں کی پرواز کے دوران اپنے ہمراہ بیٹھے مسافر کی وجہ سے اپنے جسم کو موڑ کر بیٹھنا پڑا۔

جیمز کہتے ہیں کہ اس وجہ سے انھیں کمر کی تکلیف ہو گئی ہے اور وہ دو لاکھ 27 ہزار ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اتحاد ایئر ویز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دسمبر سنہ 2015 میں جیمز باسوس کو طبی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے ’ہمیں یقین ہے کہ یہ معاملہ جلد نتائج کے ساتھ آگے بڑھےگا۔‘

درد اور بے آرامی

اتحاد ایئر لائنز نے اس مقدمے کو ختم کرنے کی کوشش کی جو سنہ 2012 میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا تاہم عدالت نے یہ مقدمہ خارج کردیا۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ایک جج نے جمعرات کو جیمز باسوس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انھیں اپنا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا۔

آسٹریلوی شہر برسبین سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ جیمز پیشے کے اعتبار سے ڈیزائنر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران ایک بھاری جسامت کے مسافر ان کی نشست تک پھیلے ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ پانچ گھنٹے کے صبر کے بعد جب انھوں نے اپنی جگہ تبدیل کرنے کو کہا تو انھیں بتایا گیا کہ جہاز میں کوئی نشست خالی نہیں ہے۔

جیمز کو آخر کار جہاز کے آخری حصے میں عملے کی جگہ پر جانا پڑا تاہم لینڈنگ کے وقت ایک بار پھر انھیں اپنی نشست پر واپس آنا پڑا۔

اتحاد ائیر ویز کا کہنا ہے کہ فلائٹ بھری ہونے کی صورت میں کسی بھاری جسامت والے شخص کے ہمراہ مسافروں کا بیٹھنا ایک معمول کی بات ہے۔

جیمز کہتے ہیں کہ اب انھیں کمر کی تکلیف کی وجہ سے سونے میں اور کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

انھوں نے ہرجانے کا مطالبہ اپنے طبی اخراجات اور کام میں ہرج کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے کیا ہے۔

اسی بارے میں