’فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ہر حال میں پکڑیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 18 ماہ کی عمر کا بچہ اور اس کے والدین نابلس میں کے قریب دومہ گاؤں میں واقع اپنے گھر میں سو رہے تھے جب اسے آگ لگا دی

اسرائیل نے غرب اردن میں مشتبہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے آتش زنی کے حملے میں ایک فلسطینی بچے کی ہلاکت کے ذمہ داران کو پکڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ادھر فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے کے جل کر ہلاک ہونے کے واقعے کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں کیا گیا اور اس میں ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو رات کے وقت آگ لگائی گئی۔

اس آگ میں 18 ماہ کا بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے والدین اور بڑا بھائی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے جمعے کو زخمیوں کی عیادت کے بعد اپنے بیان میں اس حملے کو قابلِ مذمت اور خوفناک قرار دیا ہے۔

انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا:’یہ ہر لحاظ سے دہشت گردی کا اقدام ہے اور اسرائیلی ریاست کی دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق سخت اقدامات اٹھاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کا ملک اس برائی سے لڑنے، اس حملے کے ذمہ داران کو تلاش کرنے اور انھیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن پی ایل او‘ کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے علی سعد دوآبشاہ کے وحشانہ قتل کی ذمہ داری مکمل طور پر اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ rabbis for human rights
Image caption حملہ آوروں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا ہے

فلسطینی اتھارٹی نے بیان میں مزید کہا ہے کہ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے کئی دہائیوں سے یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی کو دی جانے والی آزادی کی وجہ سے یہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

امریکہ نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ قرار دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گھر پر آگ کا گولہ پھینکا گیا تھا۔ والد اپنی بیوی اور بڑے بیٹے کو بچانے میں کامیاب رہے تاہم وہ چھوٹے بچے کو نہ بچا سکا۔

حملہ آوروں نے بظاہر گھر کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کے لفظ بھی تحریر کیا ہے اور اس آگ سے ایک اور گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان لبا سمری کا کہنا ہے کہ ’اس حملے کے قوم پرستانہ محرکات ہوسکتے ہیں۔‘

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے: ’ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتبہ افراد علی الصبح گاؤں میں داخل ہوئے، گھروں کو آگ لگائی اور گھروں پر سپرے سے عبرانی زبان میں تحریر لکھی۔‘

’آئی ڈی ایف اس حملے میں ملوث مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے آپریشن کر رہی ہے۔‘

اسی بارے میں