برطانیہ اور فرانس کی ’کیلے بحران‘ کے حل کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کےلے پر جمع پناہ گزین رات کو برطانیہ اور فرانس کےدرمیان واقع رود بار (چینل) کو پار کے برطانیہ پہنچنے کی کوششیں کرتے ہیں

برطانیہ اور فرانس نے یورپی یونین کے دوسرے ممالک سے کے لے تارکینِ وطن کے بحران کی اصل وجوہات کو حل کرنے میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف میں برطانوی وزیرِ داخلہ تھریسا مے اور ان کے فرانسیسی ہم منصب برنارڈ کیزے نووے نے ان حالات کو ’عالمی تارکین وطن‘ کا بحران کہا ہے۔

کیلے پر جمع پناہ گزین رات کو برطانیہ اور فرانس کےدرمیان واقع رود بار (چینل) کو پار کے برطانیہ پہنچنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس دونوں نے صورتِ حال پر قابو پانے کا عہد کیا ہے۔

یہ اپیل فرانس اور برطانیہ کے درمیان سکیورٹی انتظامات میں اضافے کے معاہدے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد کی گئی ہے۔

یہ انتظامات فرانس کی جانب والے چینل ٹنل کے حصے کے لیے ہیں جن میں اضافی پرائیوٹ سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی، نگرانی کے لیے مزید سی سی ٹی کیمرے نصب کرنا، فرانسیسی پولیس کی موجودگی میں اضافہ اور اضافی باڑھ لگانا وغیرہ شامل ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے فون پر ان اقدامات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

Image caption گذشتہ ہفتے ہزاروں تارکین وطن نے برطانیہ جانے کی کوشش کی

کیلے پناہ گزینوں کے لیے مقامی پولیس کے ساتھ 600 سے زائد فساد پر قابو پانے والے پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے اور کیزے نیوے نے سنڈے ٹیلیگراف میں لکھا ’ان حالات کو صرف دو ممالک کے مسائل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ یورپی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر ترجیحات میں شامل ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’اور اسی لیے ہم دوسرے رکن ممالک اور یورپی یونین پر زور ڈال رہے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔‘

انھوں نے اس مسئلے کے طویل مدتی حل کے بارے میں مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ یورپ میں بہتر زندگی کے لیے ترک وطن کی خواہش رکھتے ہیں انھیں یہ باور کرایا جائے کہ ہماری گلیاں سونے کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم سرحد پر مزید سکیورٹی اور زیادہ سخت اقدامات چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 600 فساد کش پولیس تعینات کیا ہے

ترجمان نے مزید کہا کہ سب سے پہلے ہم ان کی امداد کرنا چاہتے ہیں جو اس خلل سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کے لیے مقامی افراد اور تجارت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے کینٹ میں اضافی پارکنگ زون حاصل کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم کے نام خط میں لیبر پارٹی کی راہنما ہیری اٹ ہارمن نے کہا کہ برطانوی حکومت نے کےلے میں صورتِ کے خراب تر ہونے کے بارے میں ’بار بار ملنے والے انتباہ‘ کو نظر انداز کیا۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے کاروبار اور خاندانوں کو اس مسئلے کی وجہ سے جو نقصان بھرنے پڑ رہے ہیں وہ ’غلط‘ ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم، فرانس کی حکومت سے درخواست کریں کہ وہ ایسے تمام نقصانات کو پورا کرے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس کے لیے ’ضروری سفارتی دباؤ ڈالنا پڑے تو ڈالا جائے‘۔

دریں اثنا امیگریشن کے وزیر جیمز بروکنشائر نے کہا ہے برطانیہ میں رہنے والے دس ہزار سے زائد گزینوں کے لیے ٹیکس ادا کرنے والوں کی مدد ختم کرنے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ اور فرانس نے اسے دونوں ملکوں کے بجائے پناہ گزینوں کا عالمی مسئلہ کہا ہے

برطانیہ میں پناہ گزینوں کو پناہ حاصل کرنے کے بعد سے رہائش اور ہفتے میں 36 پاؤنڈ الاؤنس مل سکتا ہے۔ لیکن جن کی درخواست نا منظور ہو جاتی ہے انھیں یہ امداد نہیں دی جاتی ہے تاہم ناکام پناہ گزینوں کو ابھی بھی یہ امداد مل رہی ہے۔

انھوں نے کہا: میں نئے قوانین متعارف کرانا چاہتا ہوں تاکہ ان کی امددا ہو سکے جنھیں واقعتا اس کی ضرورت ہے لیکن جو برطانیہ کے نظام کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ان کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے برطانیہ پناہ گزینوں کے لیے کوئی مخملی بچھونا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے یوروٹنل کو عبور کرنے کی ہزاروں افراد نے کوشش کی تھی۔

اسی بارے میں