ایتھنز سٹاک ایکسچینج دوبارہ کھلنے پر ’20 فیصد کمی‘ کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایتھنز کا سٹاک ایکسچینج اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب حکومت نے قرضوں کے بحران کے نکتۂ عروج پر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھی

یونان میں تاجروں نے پیش گوئی کی ہے کہ پیر کو پانچ ہفتوں کی بندش کے بعد جب ایتھنز کا سٹاک ایکسچینج دوبارہ کھلے گا تو اس میں 20 فیصد تک کی کمی ہوگی۔

ایتھنز کا سٹاک ایکسچینج اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب یونان کی حکومت نے قرضوں کے بحران کے نکتۂ عروج پر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

تاجروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پیر کو ایتھنز میں جب حصص کا کاروبار پھر سے شروع ہوگا تو یونانی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث حصص کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہوگی۔

ٹیکیز زمینس ’بِیٹا سکیورٹیز‘ میں چیف ٹریڈر ہیں اور وہ بھی اس صورتِ حال پر قنوطیت کے شکار افراد میں سے ایک ہیں۔ان کا کہنا ہے ’اس بات کا امکان صفر ہے کہ کل کسی ایک شیئر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کی بیل آؤٹ پیکج پر وقت پر دستخط کر دینے کی قابلیت کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور پھر وقت سے پہلے انتخابات کا بھی امکان ہے۔‘

یونانی وزیرِ اعظم ایلیکس تسیپراس کی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے اخبار ’آواجی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بینکوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے ایتھنز کو دس ارب یوروز چاہیں۔

بینک ایتھنرز کی اہم انڈیکس کا تقریباً پانچ فیصد ہیں۔ جب سے ایتھنز کا سٹاک ایکسچینج بند ہوا ہے، یونان کے قومی بینک کے ان حصص کی قیمتیں جو امریکی فہرست میں شامل ہیں، تقریباً 20 فیصد تک گر گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک رپورٹ کے مطابق بینکوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے ایتھنز کو دس ارب یوروز چاہیں

یونانی فنڈ کے ایک مینیجر نے کہا ’کل تمام تر توجہ بینکوں کے شیئروں پر ہوگی اور وہی زیادہ نقصان اٹھائیں گے کیونکہ اس سیکٹر میں بڑی اور تنظیمی تبدیلیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے حصص کی قدر کم ہونے کا خدشہ ہے۔‘

ان کے مطابق یونانی بینک اس سال منافع نہیں کما سکیں گے کیونکہ مالی بحران کے نتیجے میں وہ برے قرضوں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ’حقیقت پسندانہ توقع یہی ہے کہ کل جب بازارِ حصص کھلے گا تو اس میں 15 سے 20 فیصد تک کی کمی ہوگی۔‘

اگرچہ گزشتہ ماہ یونان نے اپنے قرض دینے والوں کے ساتھ بیل آؤٹ معاہدہ کر لیا ہے، لیکن اسمعاہدے کی شرائط پر ایتھنز میں ہونے والی سیاسی نزع کی وجہ سے وزیرِ اعظم ایلیکس سیپریس مقررہ وقت سے قبل انتخابات کرانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اس سال جنوری میں سادگی کے نعرے پر منتخب ہونے والے موجودہ وزیرِ اعظم کی مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالے سے قبل یونانی معیشت کو جو فائدے ملے تھے وہ ختم ہو رہے ہیں۔

یورپی کمیشن کا خیال ہے کہ یونان اس برس پھر کساد بازاری کا شکار ہو جائے گا اور اس کی معیشت دو سے چار فیصد تک سکڑے گی۔ سنہ 2014 سے قبل یونان کی معیشت چھ سال تک معاشی گراوٹ کی حالت میں تھی۔

اسی بارے میں