ایم ایچ 370 کے ملبے کی تلاش کا دائرہ کار بڑھانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے وہ ری یونین کے قریبی علاقوں میں ملبے کی تلاش کا دائرہ کار بڑھانا چاہتی ہے

ملائشیا نے بحرہند میں ری یونین جزیرے کے قریب واقع دیگر جزائر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کے ممکنہ ملبے پر نظر رکھی جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بحر ہند کے ری یونین جزیرے سے جہاز کا ایک اور ٹکرا ملا تھا۔

اس ملبے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ملائیشیا کے تقریباً ایک برس قبل لاپتہ ہونے والے جہاز ایم ایچ 370 کا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ مارچ سنہ 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے طیارے میں اس وقت 239 مسافر سوار تھے۔

تاہم ملائشیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اظہرالدین عبدالرحمان نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’میں نے میڈیا میں پڑھا کہ (نیا ملنے والا ملبہ) دروازے کا حصہ ہے۔ لیکن میں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ری یونین میں موجود لوگوں سے استفسار کیا اور یہ سامنے آیا کہ وہ محص ایک سیڑھی تھی۔‘

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اتوار کو اس کے فوٹوگرافرز نے ایک دھات کے ٹکڑے کو دیکھا جس پر دو چینیوں کی تصاویر بنی ہوئیں تھی اور اس کا دستہ چمڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس کا سائز 100 سینٹی میٹر تھا اور اسے ایک لوہے کے ڈبے میں ڈال کر لے جایا گیا تھا۔

تاہم سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک کیتلی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ملائشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے وہ ری یونین کے قریبی علاقوں میں ملبے کی تلاش کا دائرہ کار بڑھانا چاہتی ہے۔

اس ضمن میں ملائشیا قریبی علاقوں کو ایم ایچ 370 کا ملبہ ملنے کی صورت میں آگاہ کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک کیتلی ہوسکتی ہے

اس سے قبل جزیزے سے ملنے والا جہاز کے ملبے کا پہلا ٹکڑا تجزیے کے لیے فرانس بھیجا گیا ہے جہاں فرانسیسی شہر تولوز میں واقع وزارت دفاع کی ایک لیبارٹری میں اُس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دو میٹر لمبا یہ ملبہ جہاز کے پر وہ حصہ ہو سکتا ہے جسے ’فلیپران‘ کہا جاتا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کے تجزیے کا کام بدھ کو شروع ہو گا۔

سینٹ اینڈر کے ساحل سے ملنے والے سویٹ کیس کے ٹکڑوں کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

طیارے کے لاپتہ ہونے کے بعد سے آسٹریلیا کی سربراہی میں جنوبی بحرہ ہند کے ایک وسیع علاقے میں جہاز کے ملبے کی تلاش کا کام جاری ہے۔

حکام کے خیال میں ملائیشین ائیر لایئن کا بیجنگ جانے والا لاپتہ جہاز سمندر میں گرا کر تباہ ہوا ہے لیکن جہاز کی گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

بدھ کو بحرِ ہند سے ملنے والے جہاز کے ملبے کی تصاویر کے بارے میں ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملبہ بظاہر بوئنگ 777 کا دکھائی دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تمام ہوائی جہازوں پر ایک خاص نمبر ہوتا ہے جس سے شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی بارے میں