نجیب رزاق کے اکاؤنٹ والی رقم عطیہ ہیں: تحقیقاتی ایجنسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمیشن نے وزیر اعظم نجیب کو کسی بھی بدعنوانی سے پاک قرار دیا ہے

ملائیشیا کی انسدادِ بدعنوانی ایجنسی نے یہ کہتے ہوئے وزیر اعظم نجیب رزاق کو کسی بھی بدعنوانی سے پاک قرار دیا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کروڑوں ڈالرز عطیہ تھے۔

ملائیشیا کی انسدادِ بدعنوانی ایجنسی نے نہ عطیہ دینے والوں کے نام ظاہر کیے اور نہ ہی رقم کی تفصیلات بتائیں۔

خیال رہے کہ انسدادِ بدعنوانی ایجنسی ان الزامات کی تفتیش کر رہی تھی جن میں نجیب رزاق پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے قائم کردہ ایک ایم بی ڈی (ملائیشیا ڈیولپمنٹ برہد) سے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کیے گئے تھے۔

اگرچہ نجیب رزاق نے ان الزامات کی تردید کی تھی لیکن اس سکینڈل کی وجہ سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

انھوں نےگذشتہ ہفتے ملک میں جاری مالیاتی سکینڈل کے پیشِ نظر نائب وزیراعظم محی الدین یاسین کو برخاست کر دیا تھا جنھوں نے ایک ایم بی ڈی فنڈ کے سلسلے میں لگائے جانے والے الزامات پر نجیب رزاق پر تنقید کی تھی کہ انھوں نے اس سکینڈل کو صحیح طور پر ہینڈل نہیں کیا۔

ان کے علاوہ بدعنوانی کے اس معاملے کی جانچ کرنے والے اٹارنی جنرل غنی پٹیل کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ملائیشیا کی سرکاری ایجنسی کے مطابق انھیں صحت کی خرابی کے باعث ہٹایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتے انھوں نے ملک میں جاری مالیاتی سکینڈل کے پیشِ نظر نائب وزیراعظم محی الدین یاسین کو برخاست کر دیا تھا

خیال رہے کہ وزیر اعظم نجیب رزاق نے سنہ 2009 میں ایک ایم بی ڈی قائم کیا تھا۔

نجیب رزاق پر الزام ہے کہ انھوں نے اس فنڈ سے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں 70 کروڑ امریکی ڈالر منتقل کیے جس کی انھوں نے تردید کی تھی۔

اگرچہ ایجنسی نے کہا ہے کہ نجیب رزاق کے پیسے عطیہ ہیں لیکن کوالالمپور میں بی بی سی کے نمائندے جنیفر پاک کا کہنا ہے کہ اس سے بہت سے ناقدین مطمئن نہیں ہوئے ہیں۔

ملائیشیا کی حزب اختلاف وزیر اعظم پر اپنے عہدے کا فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب ایک ایم بی ڈی نے کمیشن کے نتائج کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس کا موقف ہے کہ وہ ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ اس نے نجیب رزاق کو کوئی رقم نہیں دی ہے اور اس سلسلے میں عائد کیے جانے والے الزامات بے بنیادہ ہیں۔

نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ وہ ’سیاسی سبوتاژ‘ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے سابق بااثر وزیراعظم مہاتیر محمد پر ان کی حکومت گرانے کی مہم کو چلانے کا الزام لگایا ہے۔

اسی بارے میں