بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کو حادثہ، ’25 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اٹلی کے کوسٹ گارڈ کے مطابق ابھی تک سمندر سے 25 افراد کی لاشیں ملیں ہیں لیکن لاپتہ افراد کی تعداد واضع نہیں ہے۔

بحیرۂ روم میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی ڈوبنے والی کشتی کی تلاش کے لیے امدادی آپریشن جاری ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ لیبیا سے چلنے والی اس کشتی میں تقریباً 600 غیر قانونی تارکینِ وطن سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد کے سمندر میں ڈوبنے کا خطرہ ہے جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ 400 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

بحیرۂ روم سے تین ہزار سے زائد تارکین وطن کو بچا لیا گيا

اٹلی کے کوسٹ گارڈ کے مطابق ابھی تک سمندر سے 25 افراد کی لاشیں ملیں ہیں لیکن لاپتہ افراد کی تعداد واضع نہیں ہے۔

سال 2015 میں بحیرۂ روم کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ پہچنے کی کوشش میں اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کو بحیرۂ روم میں کشتی ڈوبنے کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب لیبیا کے ساحل سے 25 کلو میٹر دور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے کشتی خراب موسم کے سبب سمندری لہروں میں پھنس گئی۔

کشتی کی جانب سے مدد کی اپیل پر آیئریش نیوی کا جہاز اُس کی مدد کے لیے پہنچ ہی رہا تھا کہ کشتی میں سوار تارکینِ وطن ایک جانب اکٹھا ہو گئے اور کشتی اُلٹ گئی۔

امدادی کارروائیوں میں تین ہیلی کاپٹر اور تین جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

اٹلی کے کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات دیر گئے تک امدادی آپریشن جاری رہا اور زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ کشتی پر 400 سے 600 کے درمیان افراد سوار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں سال اپریل میں بحیرۂ روم میں لیبیا کے ساحل کے قریب ہی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 800 غیر قانونی تارکینِ وطن سمندر میں غرق ہو گئے تھے

یو این ایچ سی آر کی ترجمان میلیسا فلیمنگ نے بتایا کہ کشتی میں 100 افراد کشتی میں سفر کر رہے تھے۔

رواں سال اپریل میں بحیرۂ روم میں لیبیا کے ساحل کے قریب ہی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 800 غیر قانونی تارکینِ وطن سمندر میں غرق ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ یہ بحیرۂ روم میں اب تک کا مہلک ترین حادثہ ہے۔

اس حادثے کے بعد یورپی ممالک کے رہنماؤں نے تلاش اور امدادی اپریشن کے لیے زیادہ فنڈ مختص کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ اس خطرناک راستے کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یورپ بھجواتے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ بحیرۂ روم کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں