دولتِ اسلامیہ نے ’درجنوں شامی عیسائیوں کو یرغمال بنا لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایس او ایچ آر کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والوں میں کم ازکم 60 عیسائی شامل ہیں

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جمعرات کو شام کے ایک گاؤں میں قبضہ کرنے کے بعد درجنوں عیسائیوں کو اِغوا کر لیا ہے۔

یہ علاقہ اس سے قبل شامی حکومت کی حامی افواج کے قبضے میں تھا۔

کیا مشرقِ وسطیٰ میں عیسائیت خطرے میں ہے؟

صورت حال کا جائزہ لینے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ مقامی عیسائیوں کو اس وقت گھیرے میں لے لیا گیا جب جہادی القریاتین سے ہوتے ہوئے حُمس صوبے میں داخل ہوئے۔

بہت سے عیسائی حلب میں جنگ سے بچنے کی خاطر القریاتین کی جانب بھاگ گئے تھے۔

اس سے قبل بھی دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنے زیرِ قبضہ دیگر علاقوں میں عیسائی آبادی کے ساتھ سخت رویہ اپنایا گیا ہے۔

کٹر سنّی نظریات کےحامل اس گروہ نے اس سے قبل عیسائی آبادی سے کہا تھا کہ وہ مذہب تبدیل کریں، جزیہ ادا کریں یا پھر موت کا سامنا کریں۔

شام میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے والے ایک برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نےقریاتین کے 230 عیسائیوں کو یرغمال بنایا ہے۔

ایس او ایچ آر کے مطابق ان افراد میں سے بہت سے ایسے ہی جنھیں چرچ کے اندر سے پکڑا گیا۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ ان لوگوں کو پکڑ رہی تھی جن پر شامی حکومت کے ساتھ تعاون کا الزام ہے۔

سویڈن کی آشوریہ فیڈریشن کے ممبران کے کچھ عزیزو اقارب اسی قصبے میں موجود ہیں۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے 100 خًاندانوں کو یرغمال بنایا ہے۔ تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ اس قصبے کے مکینوں سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ مصر کے 21 قبطی عیسائیوں اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے 30 عیسائیوں کے قتل کی ویڈیوز سمیت متعدد ویڈیوز جاری کر چکی ہے

ادھر ایس او ایچ آر کے مطابق یرغمال بنائے جانے والوں میں کم ازکم 60 عیسائی شامل ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں بھی دولتِ اسلامیہ نے شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ کے دیہات میں درجنوں آشوری عیسائیوں کو یرغمال بنایا تھا۔

ایک مقامی عیسائی ملیشیا کا خیال ہے کہ یرغمالیوں کو پہاڑوں پر لے جایا گیا ہے تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ ان کے ساتھ دراصل کیا سلوک کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں