رپبلکن مباحثہ: کون جیتا، کون ہارا؟

امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لیے رپبلکن پارٹی کا ٹکٹ لینے کے امیداواروں کی ٹی وی پر پہلی بحث ایک گیم شو جیسی تھی لیکن اس مقابلے کے شرکا یعنی صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمندوں کو پہلے راؤنڈ کے بعد ہی انعام نہیں مل جاتا۔ آنے والے مہینوں میں انھیں مزید کئی امتحانوں سے گزرنا ہوگا اور فی الحال تو یہ بقا کی جنگ ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس بحث میں شامل دس بہترین شرکا کی کارکردگی کیسی رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ڈونلڈ ٹرمپ

خیال کیا جا رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بحث کے دوران زیادہ ’صدراتی‘ اور ’باعزت‘ دکھائی دینے کے لیے نرم اور دھیما لہجہ اپنائیں گے۔

بہترین لمحہ: جب ان سے امیگریشن کے بارے میں سوال ہوا تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے تنِ تنہا اس معاملے کو صدارتی دوڑ کا اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ ان کی یہ بات خاصی حد تک درست ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ صحافیوں اور ’احمق سیاست دانوں‘ پر برستے نظر آئے۔

بدترین لمحہ: جب ٹرمپ سے ماضی میں ان کی جانب سے برطانیہ کے این ایچ ایس کی طرز کے ہیلتھ انشورنس پروگرام کی حمایت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کے جواب کا آغاز تھا کہ یہ نظام ’کینیڈا اور سکاٹ لینڈ جیسی جگہوں پر بے حد کامیاب رہا ہے‘ اور یہاں سے بات بگڑتی چلی گئی۔

حتمی فیصلہ: ٹرمپ سٹیج پر حاوی رہے لیکن پہلی بار انھیں کچھ ایسے سوالات کا سامنا رہا جن کا تعلق براہِ راست خود ان سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جیب بش

جیب بش کو آغاز میں ہی دفاعی انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان کی حکمتِ عملی بظاہر یہ تھی کہ بحث سے دور رہا جائے، لیکن بعض اوقات وہ اپنے خیالات میں گم ہی دکھائی دیے۔

بہترین لمحہ: جب اسقاطِ حمل کے بارے میں ایک سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کے بعد جیب بش سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹرمپ کو مسخرا سمجھتے ہیں، بش نے فلوریڈا کے اقتصادی ریکارڈ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’پرامیدی پر مبنی پیغام‘ دینا چاہتے ہیں۔

بدترین لمحہ:جب بش سے عراق میں جنگ کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے براک اوباما کی خارجہ پالیسی کے ناقد کا روپ دھار تو لیا لیکن اس میں انھیں بہت وقت لگا۔

حتمی فیصلہ: وہ لڑکھڑائے تو نہیں لیکن ان کی یہ کارکردگی ان کے ناقدین کا دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سکاٹ واکر

کیا سکاٹ واکر اس بحث میں موجود بھی تھے؟ بسا اوقات وسکانسن سے تعلق رکھنے والے یہ یونین مخالف سیاستدان ایکشن میں نظر نہیں آئے۔ اس بحث کے دوران انھیں صرف رینڈ پال سے ہی زیادہ وقت دیا گیا۔

بہترین لمحہ: انھوں نے خارجہ پالیسی کے بارے میں کئی سوالات کا اچھے طریقے سے سامنا کیا جبکہ یہ موضوع ان کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ایک موقعے پر تو ان کا فی البدیہہ جملہ کمال تھا کہ ممکنہ طور پر روسیوں اور چینیوں کے پاس ہلیری کلنٹن کے ای میل سرور کے بارے میں امریکی کانگریس سے زیادہ معلومات ہیں۔

بدترین لمحہ: خدا کے بارے میں سوال پر ان کا جواب تھا کہ ’صرف مسیح کے خون کی وجہ سے مجھے میرے گناہوں سے نجات ملی ہے۔‘ امریکی چاہتے ہیں کہ ان کے سیاسی رہنما مذہبی ہوں لیکن انھیں ان کا کھلے عام مذہب کا پرچار پسند نہیں۔

حتمی فیصلہ: جائزوں میں واکر کے مقام نے انھیں اہم امیدوار بنا دیا ہے لیکن وہ اس بڑے سٹیج پر کچھ بجھے بجھے دکھائی دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

رینڈ پال

کینٹکی سے تعلق رکھنے والے اس سینیٹر اس بحث میں دیگر امیدواروں کو نشانہ بنانے کے نظریے کے ساتھ آئے اور آغاز میں ہی انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نقل بھی اتاری۔ ان کی مہم جو ایک وقت میں بہت اچھی تھی اب لڑکھڑا گئی ہے اور لگتا ہے کہ ان کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے چیزوں کو ہلاتے جلاتے رکھنا ہے۔

بہترین لمحہ: پال کا بہترین لمحہ شاید اس پوری بحث کا سب سے بہترین لمحہ تھا۔ قومی سلامتی اور شخصی آزادی میں توازن پر کرس کرسٹی سے بحث میں انھوں نے ثابت کیا کہ وہ اس معاملے پر بہت پرجوش ہیں۔

بدترین لمحہ: ایک ایسی جماعت میں، جہاں سب سے زیادہ مقبول چیزوں میں سے ایک اسرائیل کی حمایت ہے، پال کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی امداد کے خاتمے کی تجویز کارگر نہیں ہو گی۔

حتمی فیصلہ: پال خود کو ’مختلف رپبلکن‘ کہتے ہیں اور یہ بات اس بحث میں کھل کر سامنے آئی۔ ان کا انداز جارحانہ تھا لیکن شاید قدامت پسند ووٹروں کو یہ نہیں چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کرس کرسٹی

نیو جرسی کے گورنر کرسٹی نے کہا تھا کہ وہ سیدھی بات کریں گے اور انھوں نے مایوس نہیں کیا۔ انھوں نے رینڈ پال کے ساتھ بحث کے دوران اپنا جھگڑالو پن بھی دکھایا۔

بہترین لمحہ: حکومتی نگرانی پر کرسٹی اور پال کی زبانی جنگ میں فاتح کا انتخاب مشکل تھا۔ پال نے جہاں زیادہ جوش کا مظاہرہ کیا وہیں کرسٹی کے نظریات وہ تھے جو اس وقت رپبلکنز کی اکثریت کے ہیں۔

بدترین لمحہ: گورنر کرسٹی نے اپنی ریاست کے دفاع کا ایک بڑا موقع اس وقت ضائع کیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلانٹک سٹی میں کاروبار کی راہ میں حائل مشکلات کا ذکر کیا۔

حتمی فیصلہ: کرسٹی اس بحث کے دوران جم کر اپنا موقف بیان کرنے والے دکھائی دیے لیکن 2012 میں اوباما سے معانقہ شاید ان کے سارے سیاسی کریئر میں انھیں ڈراتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مائیک ہکابی

ہکابی کو سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال کا بھرپور موقع ملا جس کا انھوں نے خوب فائدہ بھی اٹھایا۔ ایونجیلیکل کنزرویٹو ہکابی کی بنیاد ہیں اور جو انھوں نے کہا اس سے وہ یقیناً خوش ہوئے ہوں گے۔

بہترین لمحہ: ہکابی کو ہی وہ امیدوار ہونا چاہیے تھا جو کرس کرسٹی کی جانب سے سوشل سکیورٹی میں اصلاحات کی مخالفت کرے۔

بدترین لمحہ: جب ان سے تیسری جنس کے فوجیوں کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا جواب تھا کہ ’فوج کا مقصد لوگوں کو ہلاک کرنا اور چیزوں کی تباہی ہے۔‘ یہ شاید ربپلکن سامعین و ناظرین کے لیے بھی بہت سخت جواب تھا۔

حتمی فیصلہ: ان کے لہجے میں نرمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی جوش اور کچھ یادگار جملے باقی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مارکو روبیو

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے روبیو نے بحث کے دوران ابتدا سے اختتام تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ نہ تو بات چیت کے دوران گھبرائے اور دورانِ گفتگو ان کی چند باتیں یاد رہ جانے والی بھی تھیں لیکن ان کے لیے اہم ترین سوال یہی ہے کہ کیا وہ سب سے کم عمر امیدوار ہوتے ہوئے امریکیوں کو قائل کر سکیں گے کہ وہ صدارت کے لیے تیار ہیں؟

بہترین لمحہ: روبیو کا ایک جملہ اس ساری بحث کے دوران سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا نے ’رپبلکن پارٹی کو کچھ بہت ہی اچھے امیدوار دیے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو تو ایک امیدوار بھی نہیں مل رہا۔‘

بدترین لمحہ: جب اس بحث کی موڈریٹر میگن کیلی نے کہا کہ روبیو نے اسقاطِ حمل پر پابندی کے سلسلے میں ریپ یا والدین کی جانب سے جنسی زیادتی کے نتیجے میں حمل کو ختم کرنے کی رعایت کی حمایت کی تو روبیو اس سے متفق نہیں تھے جبکہ انھوں نے اس سلسلے میں سینیٹ میں ایک بل کی حمایت کی تھی۔

حتمی فیصلہ: روبیو میں بطور امیدوار بہت دم ہے اور اس بحث میں انھوں نے اس کا کچھ مظاہرہ بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بین کارسن

بعض اوقات یوں لگا کہ اس ریٹائرڈ نیوروسرجن کو لوگ سٹیج پر بٹھا کر بھول گئے ہیں۔ ایک موقعے پر خود بین نے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں تھا کہ مجھے دوبارہ بات کرنے کا موقع ملے گا۔‘

بہترین لمحہ: اپنے اختتامی دلائل میں انھوں نے باقاعدہ فخریہ انداز میں کہا کہ وہ واحد امیدوار ہیں جس نے ’آپس میں جڑے بچوں کو الگ کیا ہے۔‘

بدترین لمحہ:جب ان سے نسلی تعلقات کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا جواب تھا کہ بطور سرجن وہ جلد کی رنگت نہیں دیکھتے اور وقت آ گیا ہے کہ اس سے آگے کی بات کی جائے۔ اس بارے میں مزید بات نہ کر کے انھوں نے ڈیموکریٹ ووٹروں کو متاثر کرنے کا موقع گنوا دیا۔

حتمی فیصلہ: کارسن کے حامی ان سے وفادار ہیں اور شاید رہیں گے بھی لیکن سیاست کی دنیا میں نووارد کارسن بحث میں ٹک نہیں سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ٹیڈ کروز

کروز اس بحث میں بطور ماہر مقرر کے شامل ہوئے اور وہ اپنی تقریر کے دوران سامعین سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب بھی رہے تاہم ان کا یہ رابطہ اپنے عروج پر نہ پہنچ سکا۔

بہترین لمحہ: کروز کا پہلا جواب بہت عمدہ تھا۔ سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد مچل میکونل سے آمنے سامنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو واشنگٹن بھیجنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جو سب کے ساتھ چلے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں سے اتفاق کرے، لابیئنگ کرنے والوں سے دوستی رکھے تو میں آپ کا امیدوار نہیں ہوں۔‘

بدترین لمحہ: اپنے اختتامی بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ ’محکمۂ انصاف اور آئی آر ایس کو مذہبی آزادی کے خلاف کارروائی کا حکم‘ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حتمی فیصلہ: یہ ایک چیمپیئن مقرر کی اچھی کارکردگی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جان کیسچ

اوہایو کے گورنر کو کلیولینڈ کے سامعین کی حمایت تو حاصل تھی لیکن انھوں نے اس مجمع کو خوش ہونے کے زیادہ مواقع نہیں دیے۔ کیسچ خود کو ’ڈارک ہارس‘ سمجھتے ہیں جس میں ابھرنے کا مادہ ہے لیکن وہ ایسے امیدواروں میں سے ہیں جو اکثر مہم کے دوران گم ہو جاتے ہیں۔

بہترین لمحہ: ہم جنس پرست افراد کے حقوق کے بارے میں سوال پر کیسچ نے کہا ’میں ایک پرانے خیالات کا آدمی ہوں اور روایتی شادی پر یقین رکھتا ہوں۔‘ وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ان کا مذہب انھیں غیرمشروط پیار کی تعلیم دیتا ہے ان لوگوں کو بھی جو ان کے خیالات سے متفق نہیں۔

بدترین لمحہ: کیسچ کی تجویز کہ میڈک ایڈ کو بھی اوباما کیئر کے تحت لے آیا جائے اور اس تجویز کے حق میں دلیل کے لیے انھوں نے بائبل کا سہارا لیا۔ کنزرویٹوز کو یہ تجویز پسند نہیں آئی اور ان کا پہلا اثر اچھا نہیں پڑا۔

حتمی فیصلہ: کیسچ کے پاس صدر بننے کے لیے درکار صلاحیت ہے لیکن وہ اس کا صحیح طریقے سے اظہار نہیں کر پائے۔

اسی بارے میں