اقوام متحدہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تفتیش کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمنتھا پاور نے کہا کہ (کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا) ارتکاب کرنے والوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ سزا سے نہیں بچیں گے

اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استمعال کی تفتیش کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو -کے سربراہ، دونوں اس انکوائری کی منصوبہ بندی کریں گے۔

اقوامِ متحدہ میں اس معاملے پر اس وقت ووٹنگ کرائی گئی جب امریکہ اور روس دونوں قرارداد کی حتمی تحریر پر رضا مند ہوگئے۔

اگست دو ہزار تیرہ میں دمشق کے باہر ایک حملے کے بعد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک مشن قائم کیا گیا تھا۔ گذشتہ برس کے آخر میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ اس نے شام کے بتائے ہوئے ایک ہزار ایک سو اسی ٹن کے قریب مواد کو تلف یا ضبط کر دیا ہے۔

جمعے کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمنتھا پاور نے کہا کہ (کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا) ارتکاب کرنے والوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ سزا سے نہیں بچیں گے۔

’آج کی قرارداد کونسل کی متفقہ حمایت سے منظور ہوئی ہے اور یہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ملوث ہر ایک کے لیے سخت اور واضح پیغام ہے۔ اگر آپ نے لوگوں پر گیس استعمال کی ہے تو مشترکہ تفتیش آپ کو شناخت کر لے گی۔‘

جمعے کی قرارداد شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ میں کبھی کبھار نظر آنے والے اتفاق کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ تمام پندرہ ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان کئی مہینوں کی بات چیت کا نتیجہ ہے۔ امریکہ بشارالاسد کی حکومت پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جبکہ روس اپنے شامی حلیف کا دفاع کرتا رہا ہے۔

قرارداد کے مطابق بان کی مون اور او پی سی ڈبلیو آئندہ بیس روز میں وہ تحقیقارکاروں کی ایک ٹیم تجویز کریں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ماہرین کی اس ٹیم کو شام میں ان تمام مقامات رسائی دی جائے گی جہاں کیمیائی ہتھیاروں کو سٹور کیا گیا ہو اور تمام گواہوں کے انٹرویو کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ادھر امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شام اور عراق میں ایک وسیع حصے میں کنٹرول رکھنے والی دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کہیں کیمیائی ہتھیار حاصل نہ کر لے۔

اسی بارے میں