امریکہ: اہم ڈیموکریٹ رکن کا ایران معاہدے کی مخالفت کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuter
Image caption نیو یارک سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کو یہودی قانون سازوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے

امریکہ میں حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم سینیٹر چک شومر نے ایران کے جوہری معاہدے کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ خطرہ ہے کہ ایران اس معاہدے کو اُن کے بقول قابلِ نفرت اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے گا نہ کہ اپنا رویہ متعدل کرنے کے لیے۔

چک شومر حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے پہلے سینیٹر ہیں جو ایران کے جوہری معاہدے کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چک شومر کے اس اعلان سے صدر اوباما کو دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ صدر اوباما نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیں۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے میں طے پایا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کم کرے گا اور اس کے بدلے لاکھوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے غیر منجمند کیے جائیں گے۔

اس معاہدے کو صدر اوباما کی خارجہ پالیسی میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔صدر اوباما اور اُن کے ساتھیوں نے معاہدے کی حمایت کے لیے کئی مرتبہ قانون سازوں کو رام کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

لیکن سینیٹر شومر نے کہا کہ ’گہرے مشاہدے‘ اور اس کی ’اصل روح جاننے کے بعد‘ وہ محتاط انداز کو اپناتے ہوئے سینٹ میں معاہدے کے خلاف ووٹ دیں گے۔’

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر اوباما اور اُن کے ساتھیوں نے معاہدے کی حمایت کے لیے کئی مرتبہ قانون سازوں کو رام کرنے کی کوششیں کی ہیں

سینٹ میں ایران کے معاہدے پر رائے شماری ستمبر میں ہو گی۔

نیو یارک سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کو یہودی قانون سازوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور 2017 میں ہونے والے سینٹ کے انتخاب میں چیک شومر کو ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مسٹر شومر نے کہا کہ ’بعض افراد کے خیال میں اپنے ساتھیوں کو اپنی ہی طرح ووٹ کرنے کو کہوں گا کہ وہ معاہدے کے خلاف ووٹ دیں۔‘

’میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کروں گا اور کوشش کروں گا کہ وہ ووٹ کے ذریعے اسے (معاہدے) کو منظور نہ کریں۔ میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں نتائج کا اندازہ لگاتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔‘

سینیٹر چک شومر نے کہا کہ معاہدے کے ذریعے ایران پر پابندیاں ختم ہو رہی ہیں اور اُس کے پاس ’جوہری اور غیر جوہری طاقت‘ بھی ہے۔

امریکی کانگرس میں یہودی ڈیموکریٹس اراکین ایران کے معاہدے کے خلاف ہیں۔

صدر اوباما نے بدھ کو ایران معاہدے کی مخالفت کرنے والوں کو ’افسانوی خیال‘ قرار دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے علاوہ پوری دنیا نے ایران کے جوہری معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور کانگریس میں ایران پر عائد پابندیاں اُٹھانے کے حوالے رائے شماری جنگ اور امن کے درمیان انتخاب ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ معاہدے کی مخالفت کرنے والے اور وہ افراد برابر ہیں جنھوں نے عراق میں امریکی حملے کی حمایت کی تھی۔

امریکی کانگریس کے اراکین پر اسرائیل کی جانب سے بہت دباؤ ہے کہ وہ اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیں۔

اسی بارے میں