مالی میں آپریشن مکمل، چار غیرملکیوں سمیت 12 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کی زد میں آنے والا ہوٹل اقوم متحدہ کی امن فورس کے زیرِ استعمال تھا

افریقی ملک مالی میں سکیورٹی فورسز نے ملک کے وسطی قصبے سیوارے میں ایک ہوٹل میں گھسنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں کم از کم 12 افراد مارے گئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں شدت پسندوں اور فوجیوں کے علاوہ چار غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

یہ شدت پسند ایک فوجی اڈے پر حملہ کرنے کے بعد بیبلوس نامی ہوٹل میں گھس گئے تھے۔

مالی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایلکس ڈول سمتھ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مالی کے دارالحکومت سے 600 کلومیٹر دور ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران تین حملہ آور مارے گئے جبکہ سات کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سنیچر کو علی الصبح کی جانے والی اس کارروائی میں پانچ فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والے دو جنوبی افریقی، ایک روسی اور ایک یوکرینی شہری کو بحفاظت ہوٹل سے نکالا گیا ہے۔

یہ افراد مالی میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے لیے کام کرنے والے انجینیئر اور پائلٹ تھے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان چاروں افراد کو یرغمال نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ ہوٹل کی عمارت میں چھپ گئے تھے۔

مالی کی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہوٹل کی عمارت سے چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ملک کے وزیرِ دفاع دائران کونے کا بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے یرغمالیوں کو رہا کروالیا ہے ، تاہم بدقسمتی سے ہم نے وہاں تین لاشیں بھی دیکھی ہیں۔‘

تاہم انھوں نے اپنے بیان میں ہلاک اور رہا کروائے گئے غیر ملکیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔

خیال رہے کہ مالی کی سکیورٹی فوسرز کئی سال سے شمال میں موجود اسلامی باغیوں سے لڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں